امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 27 جون: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ بھارت کی تہذیبی شناخت مذہبی رواداری، باہمی احترام اور مختلف عقائد کے پرامن بقائے باہمی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کبھی کسی پر اپنا مذہب مسلط نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ہر مذہب اور عقیدے کے ماننے والوں کو عزت اور تحفظ فراہم کیا۔
سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقدہ بین المذاہب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ بھارت صدیوں سے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور نظریات کا مرکز رہا ہے، جہاں تنوع کو ہمیشہ طاقت سمجھا گیا ہے، نہ کہ اختلاف۔
انہوں نے کہا کہ "دھرم” صرف مذہب کا نام نہیں بلکہ راست بازی، فرض شناسی اور ان اقدار کا مجموعہ ہے جو معاشرے کو مضبوط بناتی ہیں۔ انہوں نے رِگ وید، اتھرو وید اور بھگوت گیتا کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ مختلف راستے آخرکار ایک ہی سچائی کی طرف لے جاتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کو بھارت کے مشترکہ تہذیبی ورثے کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیریت ہمدردی، بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کی اقدار کی نمائندہ ہے، جو صدیوں سے اس خطے کی شناخت رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برصغیر میں اسلام کی آمد کے بعد مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمہ، ثقافتی تبادلہ اور علمی تعاون فروغ پایا، جبکہ صوفی بزرگوں، گرو نانک دیو اور دیگر روحانی شخصیات نے مذہبی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
منوج سنہا نے کہا کہ جب دنیا کے کئی خطے جنگ اور عدم برداشت کا شکار ہیں، ایسے وقت میں بھارت کا تہذیبی ورثہ دنیا کے لیے امید اور رہنمائی کا پیغام دیتا ہے۔
انہوں نے محرم اور شری امرناتھ یاترا سمیت تمام مذہبی تقریبات کے پرامن اور باوقار انعقاد کے لیے انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے یکساں احترام اور سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ بین المذاہب مکالمے سے بھائی چارہ، باہمی اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کو مزید فروغ ملے گا، جس سے جموں و کشمیر میں امن اور ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔





