امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، یکم جولائی: وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاستی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل جنتَر منتر میں ہونے والے احتجاج کے آس پاس کیا جائے گا، یعنی احتجاج سے پہلے یا اس کے فوراً بعد۔
گُلستان نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عمر عبداللہ نے کہا کہ کابینہ میں توسیع ان کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے فیصلہ جلد لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جنتَر منتر کا احتجاج پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز متوقع ہے، جو غالباً 20 جولائی سے شروع ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 3 جون کو ڈاچی گام میں منعقدہ اجلاس کے بعد کابینہ میں توسیع ضروری ہو گئی ہے۔ اس اجلاس میں حکمران نیشنل کانفرنس اور اس کی حمایت کرنے والے آزاد اراکین نے بعض وزراء، خصوصاً نائب وزیر اعلیٰ، پر فنڈز کی تقسیم اور طرزِ عمل کے حوالے سے سخت تنقید کی تھی۔ اس کے علاوہ وزیر پی ایچ ای، آبپاشی و فلڈ کنٹرول، وزیر جنگلات جاوید رانا اور وزیر سی اے پی ڈی ستیش شرما بھی تنقید کی زد میں آئے تھے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر تنظیمِ نو ایکٹ 2019 کے تحت حکومت زیادہ سے زیادہ نو وزراء پر مشتمل کابینہ تشکیل دے سکتی ہے، جبکہ اس وقت کابینہ میں صرف چھ وزراء شامل ہیں، جس کے باعث مزید تین وزراء کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ میں توسیع کے ساتھ موجودہ وزراء کے قلمدانوں میں بھی ردوبدل کیے جانے کا امکان ہے۔





