کشمیر اپنی دلکش وادیوں، گھنے جنگلات، شفاف جھیلوں، بہتے دریاؤں، زرخیز زمینوں اور نادر نباتاتی و حیاتیاتی تنوع کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ قدرتی وسائل نہ صرف اس خطے کے ماحولیاتی توازن کے ضامن ہیں بلکہ یہاں کے عوام کی معیشت، ثقافت اور طرزِ زندگی کا بنیادی سہارا بھی ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ برسوں کے دوران ان وسائل کے تحفظ کے سلسلے میں سنجیدہ اور دور اندیش منصوبہ بندی کا فقدان نمایاں رہا ہے، جس کے نتیجے میں کشمیر کا قدرتی ورثہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔
حکومتی سطح پر ترقی کے نام پر متعدد پالیسیاں وضع کی گئی ہیں، لیکن ان میں سے کئی ایسی ہیں جو مقامی جغرافیہ، ماحول اور سماجی حقائق سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتیں۔ خصوصاً صنعت کاری کے تصور کو بلاوجہ اور بغیر جامع عوامی مشاورت کے یہاں کے عوام پر مسلط کرنے کی کوششیں کئی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ کشمیر کی معیشت کی بنیاد روایتی طور پر زراعت، باغبانی، دستکاری، سیاحت اور قدرتی وسائل سے وابستہ شعبوں پر رہی ہے۔ ایسے میں بھاری صنعتوں کے قیام کو ترقی کا واحد پیمانہ قرار دینا نہ صرف زمینی حقائق سے صرفِ نظر کے مترادف ہے بلکہ اس کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کشمیر میں ترقی کا ماڈل مقامی ضروریات اور قدرتی صلاحیتوں کے مطابق تشکیل دیا جانا چاہیے۔ زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، باغبانی کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے، زعفران، سیب، اخروٹ اور دیگر مقامی پیداوار کی قدر افزائی کرنے، طبی اور خوشبودار پودوں کی کاشت و تحقیق کو فروغ دینے اور حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح نباتاتی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے ساتھ وابستہ تحقیقی مراکز، چھوٹے پیمانے کی ماحول دوست صنعتیں اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے والے منصوبے دیرپا ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتی پالیسیاں اکثر اوقات جامع منصوبہ بندی، ماحولیاتی جائزے اور مقامی آبادی کی رائے کے بغیر ترتیب دی جاتی ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، آبی ذخائر پر تجاوزات، غیر منظم تعمیرات اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کے خلاف مؤثر اقدامات کا فقدان انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کیے بغیر کوئی بھی پالیسی دیرپا فوائد فراہم نہیں کر سکتی۔
تاہم اس تمام صورت حال میں عوام کی ذمہ داری بھی کسی طور کم نہیں ہوتی۔ قدرتی وسائل کے تحفظ کو محض سرکاری اداروں کی ذمہ داری سمجھنا درست نہیں۔ آبی ذخائر کو آلودگی سے بچانا، شجرکاری کی حوصلہ افزائی کرنا، غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کرنا اور ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنا ہر شہری کا اخلاقی اور سماجی فرض ہے۔ اجتماعی شعور اور عوامی شرکت کے بغیر کوئی بھی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کے لیے ایسا ترقیاتی وژن مرتب کیا جائے جو اس خطے کی جغرافیائی، ماحولیاتی اور معاشی خصوصیات سے مطابقت رکھتا ہو۔ صنعت کاری اگر ناگزیر ہو تو وہ ماحول دوست، محدود اور مقامی وسائل کے تحفظ کے اصولوں کے تحت ہونی چاہیے، نہ کہ ایسی صورت میں جس سے زراعت، باغبانی اور قدرتی نظام کو نقصان پہنچے۔ ترقی کا حقیقی مفہوم وہی ہے جو انسان اور فطرت کے درمیان توازن برقرار رکھے اور آنے والی نسلوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے۔
کشمیر کی قدرتی دولت اس کی اصل شناخت اور سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اگر حکومت دانش مندانہ پالیسیاں اختیار کرے، زرعی، حیاتیاتی اور نباتاتی وسائل کی ترقی کو ترجیح دے اور عوام بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو یہ خطہ پائیدار ترقی کی ایک کامیاب مثال بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر بے ہنگم منصوبہ بندی اور غیر موزوں ترقیاتی ماڈل اس جنت نظیر وادی کے قدرتی حسن اور معاشی بنیادوں دونوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہی وہ لمحۂ فکریہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔






