• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جولائی ۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
وازوان پر بحران کے سائے

وازوان پر بحران کے سائے

پنجاب میں مبینہ غیر قانونی لیوی نے کشمیر کے مٹن کاروبار کو مفلوج کردیا، کروڑوں روپے کا نقصان، شادیوں کا موسم خطرے میں

by امت ڈیسک
03/07/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ڈیسک رپورٹ/عاصم فارق

کشمیر کی تہذیب، ثقافت اور سماجی زندگی کا اگر کوئی ایسا جز ہے جس کے بغیر خوشیوں کی تقریبات ادھوری سمجھی جاتی ہیں تو وہ ہے وازوان۔ صدیوں پر محیط یہ روایتی ضیافت محض کھانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ کشمیری شناخت، مہمان نوازی اور تمدنی ورثے کی علامت ہے۔ لیکن آج یہی وازوان ایک ایسے بحران کی زد میں ہے جس کی جڑیں کشمیر سے سینکڑوں کلومیٹر دور پنجاب میں مبینہ طور پر وصول کی جانے والی غیر قانونی لیوی سے جا ملتی ہیں۔

وادی میں گزشتہ کئی روز سے مٹن کی سپلائی تقریباً معطل ہے۔ کشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال مسلسل جاری ہے اور اس کے نتیجے میں بازاروں میں مٹن کی قلت نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اگر یہ تعطل مزید طویل ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف عوامی زندگی بلکہ شادیوں، ہوٹل صنعت، کیٹرنگ، قصابوں اور مویشیوں کی تجارت سے وابستہ ہزاروں خاندانوں تک پھیل جائیں گے۔

تنازع کی بنیاد

کشمیر اپنی سالانہ مٹن ضرورت کا بڑا حصہ ہریانہ، راجستھان، دہلی اور دیگر شمالی ریاستوں سے درآمد کرتا ہے۔ یہ تمام مویشی پنجاب سے گزر کر جموں و کشمیر پہنچتے ہیں۔کشمیر کے تاجروں کا الزام ہے کہ پنجاب میں مویشی منڈیوں سے وابستہ بعض ٹھیکیدار ٹرانزٹ میں گزرنے والے ٹرکوں سے بھی ہزاروں روپے وصول کر رہے ہیں، حالانکہ یہ جانور پنجاب میں نہ خریدے جاتے ہیں اور نہ ہی وہاں فروخت ہوتے ہیں۔ تاجروں کے مطابق پہلے تقریباً 10 ہزار روپے فی ٹرک وصول کیے جاتے تھے، لیکن اب یہ رقم بڑھ کر 15 ہزار سے 25 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب پنجاب کا مؤقف ہے کہ یہ نئی ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ مویشی منڈیوں کی قانونی فیس اور ضابطوں پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔ تاہم جموں و کشمیر کے تاجر اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے اسے سراسر غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔

اعداد و شمار خود کہانی سناتے ہیں

کشمیر میں مٹن کی کھپت ملک میں سب سے زیادہ شمار ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی میں ہر سال 600 لاکھ کلوگرام سے زائد مٹن استعمال کیا جاتا ہے، جس کا نصف سے زیادہ حصہ بیرونی ریاستوں سے درآمد ہونے والے مویشیوں پر منحصر ہے۔معمول کے مطابق روزانہ تقریباً 50 سے 60 ٹرک کشمیر پہنچتے ہیں۔ ہر ٹرک میں اوسطاً 160 بھیڑیں ہوتی ہیں، یعنی روزانہ تقریباً 9600 بھیڑیں وادی میں داخل ہوتی ہیں۔ہڑتال کے 9 دن کے دوران تقریباً 86400 بھیڑیں کشمیر نہیں پہنچ سکیں۔ ایک بھیڑ کی اوسط قیمت کے حساب سے اب تک کا اندازاً مالی نقصان تقریباً 150 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔اسی دوران مٹن کی قیمت بھی 700 روپے فی کلو سے بڑھ کر 750 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر بحران برقرار رہا تو قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہوگا۔

شادیوں کا موسم اور وازوان کی فکر

کشمیر میں شادی کا تصور وازوان کے بغیر ممکن نہیں۔ مٹن کی قلت نے سینکڑوں خاندانوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔متعدد خاندان دعوت نامے تقسیم کرنے میں تاخیر کر رہے ہیں، جبکہ بعض کو شادیوں کی تاریخ مؤخر کرنے کا مشورہ بھی دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ابھی تک بڑے پیمانے پر شادیوں کی منسوخی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں، تاہم صورتحال برقرار رہی تو وادی کی سماجی زندگی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تاجروں کی بے بسی

کشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ وہ کئی روز سے پنجاب میں موجود ہیں اور حکومتی مدد کے بغیر خود ہی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ حکام کو پہلے ہی آگاہ کیا گیا تھا، مگر زمینی سطح پر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کروڑوں روپے مالیت کے مویشی کشمیر لاتے تھے، مگر موجودہ تعطل نے اس پورے کاروبار کو مفلوج کر دیا ہے۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ مویشیوں کی ریل کے ذریعے نقل و حمل کی اجازت دی جائے تاکہ سڑکوں پر پیش آنے والی رکاوٹوں اور اضافی اخراجات سے نجات مل سکے۔

حکومتوں کی ذمہ دارں

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کو خط لکھ کر اس معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ جموں و کشمیر جانے والے مویشی بردار ٹرکوں سے مبینہ غیر مجاز وصولیاں بین الریاستی تعاون کے جذبے کے منافی ہیں۔اب نگاہیں دونوں ریاستوں کے درمیان ہونے والی مجوزہ سرکاری بات چیت پر مرکوز ہیں۔ اگر بروقت اور مؤثر فیصلہ نہ لیا گیا تو نقصان صرف تاجروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات عام صارفین، شادیوں، ہوٹل انڈسٹری، ریسٹورنٹس، قصابوں اور ہزاروں مزدوروں تک پہنچیں گے۔

مسئلہ محض مٹن کی قیمت یا تاجروں کے نقصان کا نہیں، بلکہ یہ آئینی حقوق، آزادانہ تجارت اور وفاقی تعاون کی آزمائش بھی ہے۔ اگر کوئی ریاست محض ٹرانزٹ میں گزرنے والی اشیا پر ایسی وصولیاں کرے جن کی قانونی حیثیت متنازع ہو، تو اس سے نہ صرف تجارت متاثر ہوتی ہے بلکہ مختلف ریاستوں کے درمیان اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔

کشمیر جیسے خطے میں، جہاں مٹن روزمرہ غذا اور وازوان ثقافتی شناخت کا لازمی جز ہے، سپلائی چین میں معمولی رکاوٹ بھی بڑے معاشی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ریاستیں سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر فوری، شفاف اور قانون کے مطابق ایسا حل نکالیں جس سے تجارت بھی بحال ہو، تاجروں کا اعتماد بھی قائم رہے اور کشمیری عوام کو اس غیر ضروری بحران سے نجات مل سکے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

بالتل اور پہلگام سے امرناتھ یاترا 2026 کے پہلے قافلے کی روانگی، سخت سکیورٹی انتظامات

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

دہلی کی جانب نیشنل کانفرنس کا مارچ:ریاستی درجے کی بحالی کی نئی سیاسی مہم یا عوامی بے چینی کا ازالہ؟

این سی اپوزیشن کو احتجاج میں شامل کرنے پر کیوں مجبور؟

03/07/2026
قصابوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں؟

وادی میں مٹن ڈیلرز کی ہڑتال، شادیوں کے سیزن میں گوشت کی قلت کا خدشہ

26/06/2026
جے کے پی سی سی میں اختلافات عروج پر، کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری مکمل کر لی

جے کے پی سی سی میں اختلافات عروج پر، کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری مکمل کر لی

26/06/2026
انجینئر رشید فتح کے قریب، محمد عمر ہار تسلیم کر لی

سات برس کی اسیری، عوامی مینڈیٹ اور ایک مشکل فیصلہ:کیا انجینئر رشید بارہمولہ کی پارلیمانی نشست چھوڑ دیں گے؟

26/06/2026
لداخ میں عوامی بے چینی کا لاوا پھٹ پڑا! مکمل بند سے مرکز کو سخت پیغام، ’’لداخ کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے‘‘؛

لداخ میں عوامی بے چینی کا لاوا پھٹ پڑا! مکمل بند سے مرکز کو سخت پیغام، ’’لداخ کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے‘‘؛

26/06/2026
کشمیر میں ‘نارملسی’ کے بیان پر کانگریس لیڈر ششی تھرور کو اپنی ہی پارٹی کی تنقید کا سامنا

ششی تھرور کے کشمیر سے متعلق بیان پر کانگریس میں ہلچل، پارٹی قیادت سے اختلافات نمایاں

26/06/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »