امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 4 جولائی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر اعظم مودی کی اس اپیل کا خیر مقدم کیا ہے جس میں امرناتھ یاتریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے سفری بجٹ کا کم از کم 10 فیصد مقامی مصنوعات پر خرچ کریں تاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی روزی روٹی کو تقویت ملے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ ایک بہترین تجویز ہے، لیکن اس پر عمل اسی وقت ممکن ہوگا جب یاتریوں کو بسوں سے باہر نکل کر مقامی بازاروں میں جانے اور خریداری کرنے کی آزادی دی جائے۔
انہوں نے کہا، "اگر یاتریوں کو بسوں میں ہی محدود رکھا جائے تو وہ خریداری کیسے کریں گے؟ انہیں مقامی بازاروں میں جانے، گھومنے پھرنے اور خریداری کا موقع دیا جانا چاہیے، تاکہ یہاں کے دکانداروں، دستکاروں، پونی والوں، قلیوں اور دیگر چھوٹے کاروباری افراد کو فائدہ پہنچے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم کی "ووکل فار لوکل” مہم کے تحت مقامی مصنوعات کی خریداری سے کشمیر کی معیشت کو تقویت مل سکتی ہے اور ہزاروں خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
عمر عبداللہ نے سرینگر ہوائی اڈے کی پیر اور منگل کو مجوزہ بندش واپس لینے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کشمیر کی سیاحت کو بڑی راحت ملی ہے، کیونکہ بندش کی خبر کے بعد کئی سیاحتی گروپ اپنی بکنگ منسوخ کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کو انہوں نے وزیر دفاع، وزیر شہری ہوا بازی اور وزیر اعظم کے ساتھ اٹھایا تھا، جس کے بعد پیر اور منگل کو ہوائی اڈہ بند نہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکتوبر میں متوقع بندش کے دوران اونتی پورہ ہوائی اڈے سے پروازیں چلانے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے پنجاب میں جموں و کشمیر کی باغبانی مصنوعات پر منڈی ٹیکس ختم کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کرتے ہوئے اسے کسانوں اور تاجروں کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔






