امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 9 جولائی: نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے انڈیا بلاک کی قیادت، مختلف سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں اور دیگر اہم شخصیات کو باضابطہ دعوت نامے ارسال کیے ہیں۔
پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے بھیجے گئے دعوت ناموں میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، پیپلز کانفرنس، جموں و کشمیر اپنی پارٹی، عوامی اتحاد پارٹی، میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام سمیت کئی رہنماؤں کو احتجاج میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
فاروق عبداللہ نے اپنے خط میں کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ آئینی وعدوں کی تکمیل اور وفاقی نظام کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام نے جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کیا، تاہم ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے احتجاج میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت پہلے ہی ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ ادھر نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان آغا روح اللہ مہدی نے احتجاج کے دائرۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی جدوجہد صرف ریاستی درجے تک محدود نہیں بلکہ آرٹیکل 370 کی بحالی بھی اس کا اہم حصہ ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 20 جولائی کے اس احتجاج کے لیے انڈیا بلاک کے رہنماؤں، جن میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکارجن کھرگے، اروند کیجریوال اور اکھلیش یادو شامل ہیں، کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔





