تسلیمہ اختر
دنیا میں ہر انسان کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی کچھ لوگ خوشیوں کی چھاؤں میں پروان چڑھتے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے حصے میں بچپن سے ہی آزمائشیں محرومیاں اور مجبوریاں آتی ہیں. باہر سے دیکھنے والے اکثر صرف ایک چہرہ دیکھتے ہیں مگر اس چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی کہانی ٹوٹے ہوئے خواب خاموش آنسو اور دل کی بے شمار تکلیفیں کسی کو نظر نہیں آتیں.
مجبوری انسان کو صرف رلاتی نہیں بلکہ اندر سے بدل بھی دیتی ہے یہ انسان سے اس کی بے فکری چھین لیتی ہے ہنسی کو خاموشی میں بدل دیتی ہے اور خوابوں کو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا دیتی ہے بعض لوگ اپنی خواہشوں سے نہیں ہارتے بلکہ حالات کی سختی کے سامنے مجبور ہو جاتے ہیں. ہم اکثر کسی خاموش شخص کو مغرور سمجھ لیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ کئی راتوں سے سو نہ سکا ہو. کسی مسکراتے ہوئے چہرے کو خوش سمجھ لیتے ہیں مگر شاید وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہو دنیا ظاہری حالت دیکھتی ہے جبکہ اللہ دلوں کے زخم جانتا ہے.
ایک باپ جو اپنی اولاد کی تعلیم کے لیے دن رات محنت کرتا ہے اپنی ضروریات قربان کر دیتا ہے ایک ماں جو خود بھوکی رہ کر بچوں کو کھانا کھلاتی ہے کبھی اپنی تکلیف زبان پر نہیں لاتی. ایک نوجوان جو اپنے خواب چھوڑ کر گھر کی ذمہ داری اٹھا لیتا ہے وہ کمزور نہیں بلکہ حالات کا سپاہی ہوتا ہے ایک بیوہ عورت جو تنہا اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے وہ ہر دن ایک نئی جنگ لڑتی ہے. ایسے لوگ ہارے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ زندگی کے سب سے بہادر کردار ہوتے ہیں.
مجبوری انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے وہ سکھاتی ہے کہ ہر رشتہ ہمیشہ ساتھ نہیں دیتا. ہر وعدہ پورا نہیں ہوتا ہر دوست مشکل وقت میں دوست نہیں رہتا. جب حالات بدلتے ہیں تو اکثر لوگ بھی بدل جاتے ہیں جو لوگ خوشیوں میں ساتھ ہوتے ہیں وہ آزمائشوں میں خاموشی سے دور چلے جاتے ہیں.
سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب انسان اپنے ہی لوگوں کے درمیان خود کو تنہا محسوس کرے جب دل بھر آئے مگر رونے کے لیے کوئی کندھا نہ ہو جب سینے میں درد ہو مگر کسی سے شکایت بھی نہ کر سکے یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں انسان باہر سے زندہ مگر اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے. معاشرے کا ایک تلخ رویہ یہ بھی ہے کہ ہم کسی کی مجبوری کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں. ہم اس کی خاموشی کا مذاق بناتے ہیں اس کی غربت پر تبصرہ کرتے ہیں اس کی ناکامی کو اس کی نااہلی سمجھتے ہیں، حالانکہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کن حالات سے گزر رہا ہے.
کبھی کسی مزدور کے چہرے کو غور سے دیکھیے اس کے ہاتھوں کی سختی ماتھے کا پسینہ اور آنکھوں کی تھکن صرف محنت کی علامت نہیں بلکہ اس کے خاندان کی امید بھی ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کی مسکراہٹ کے لیے اپنی جوانی قربان کر دیتا ہے.
کبھی کسی یتیم بچے کی آنکھوں میں جھانکیے وہاں آپ کو کھلونوں کی خواہش سے زیادہ محبت کی کمی نظر آئے گی کبھی کسی بوڑھے ماں باپ کو دیکھیے جو اولاد کے ہوتے ہوئے بھی تنہائی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں. ان کی خاموشی میں برسوں کی دعائیں اور ٹوٹے ہوئے خواب چھپے ہوتے ہیں. آج کی دنیا میں دولت کو کامیابی کا معیار بنا دیا گیا ہے لوگ انسان کی عزت اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کے بینک بیلنس سے کرتے ہیں۔ یہی سوچ بہت سے لوگوں کے دل توڑ دیتی ہے. غربت جرم نہیں، مگر افسوس کہ اکثر غریب کو مجرم کی طرح دیکھا جاتا ہے.
مجبوری انسان کو صبر سکھاتی ہے وہ جان لیتا ہے کہ ہر دکھ ہمیشہ نہیں رہتا ہر رات کے بعد صبح آتی ہے. ہر اندھیرے کے بعد روشنی ضرور پیدا ہوتی ہے۔ یہی امید اسے زندہ رکھتی ہے. کبھی کبھی انسان اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ خاموشی سے لڑ رہا ہوتا ہے. نہ وہ کسی سے مدد مانگتا ہے، نہ کسی پر الزام لگاتا ہے. وہ صرف اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھاتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ انسانوں کے دروازے بند ہو سکتے ہیں مگر اللہ کی رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا.
ہمارے معاشرے کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دوسروں کے دکھ کو محسوس کریں جو فیصلہ کرنے سے پہلے حالات کو سمجھیں جو کسی کی غربت بیماری یا بے بسی کا مذاق نہ بنائیں. ایک اچھا لفظ ایک خلوص بھرا رویہ ایک چھوٹی سی مدد کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے.
یاد رکھیں ہر وہ شخص جو خاموش ہے ضروری نہیں کہ وہ کمزور ہو ممکن ہے وہ اپنے آنسو دنیا سے چھپا کر صرف اپنے رب کے سامنے بہاتا ہو. ہر وہ شخص جو مسکرا رہا ہے ضروری نہیں کہ خوش ہو شاید وہ دوسروں کو پریشان نہ کرنے کے لیے اپنی تکلیف چھپا رہا ہو.
زندگی کا اصل حسن دوسروں کے درد کو محسوس کرنے میں ہے اگر اللہ نے ہمیں آسانیاں دی ہیں تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مجبوری کے ہاتھوں ٹوٹنے والے انسانوں کا سہارا بنیں ان کی عزت کریں، ان کی دلجوئی کریں اور ان کے لیے دعا کریں.
مجبوری انسان کو وقتی طور پر جھکا سکتی ہے لیکن اگر اس کے دل میں ایمان صبر اور امید باقی ہو تو وہ کبھی حقیقی معنوں میں شکست نہیں کھاتا. اصل شکست وہ ہے جب انسان امید چھوڑ دے اپنے رب سے تعلق توڑ دے، یا دوسروں کے درد کو محسوس کرنا چھوڑ دے.
آئیے عہد کریں کہ ہم کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کے بارے میں فیصلہ نہیں کریں گے. ہم اپنے الفاظ سے کسی کے زخم گہرے نہیں کریں گے ہم ان لوگوں کا سہارا بنیں گے جو حالات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں. کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی دولت یا شہرت نہیں بلکہ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو امید دینا ہے.
مجبوری کے ہاتھوں ہارا ہوا انسان حقیقت میں ہارا ہوا نہیں ہوتا. وہ زندگی کا وہ مسافر ہوتا ہے جس نے ہر قدم پر آزمائش دیکھی ہر موڑ پر دکھ سہا ہر رات آنسو بہائے مگر پھر بھی صبح اٹھ کر جینے کی کوشش کی. ایسے لوگ معاشرے کے خاموش ہیرو ہوتے ہیں ان کی کہانیاں شاید اخباروں کی سرخیاں نہ بنیں مگر اللہ کے ہاں ان کی ہر قربانی ہر آنسو اور ہر صبر کی قدر ضرور ہوتی ہے.
اللہ کرے ہم کبھی کسی کی مجبوری کو اس کی کمزوری نہ سمجھیں بلکہ اس کے لیے آسانی دعا اور محبت کا ذریعہ بنیں یہی انسانیت ہے یہی اخلاق ہے اور یہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے.






