امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 13 جولائی: بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر یونٹ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے مبینہ طور پر لگائے گئے رشوت کی پیشکش سے متعلق الزامات واپس لینے اور سات دن کے اندر غیر مشروط عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
قانونی نوٹس کے مطابق، اگر مقررہ مدت میں مطالبات پورے نہ کیے گئے تو بی جے پی وزیر اعلیٰ کے خلاف 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے سمیت دیوانی اور فوجداری کارروائی کرے گی۔
نوٹس، جو بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمان ست پال شرما کی ہدایت پر ایڈووکیٹ پریموکش سیٹھ کے ذریعے جاری کیا گیا، میں کہا گیا ہے کہ عمر عبداللہ نے 11 جولائی کو سری نگر میں نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی نے جموں خطے سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے بعض اراکینِ اسمبلی کو 20 سے 30 کروڑ روپے، وزارتوں کے عہدوں اور ریاستی درجے کی بحالی کی پیشکش کر کے پارٹی تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے ایک سینئر بی جے پی رہنما، جو سپریم کورٹ میں وکالت بھی کرتے ہیں، پر بھی ایسی مبینہ پیشکشوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔
بی جے پی نے ان الزامات کو "جھوٹا، بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے پارٹی کی ساکھ اور عوامی وقار کو نقصان پہنچا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمر عبداللہ تحریری طور پر اپنے الزامات واپس لیں، غیر مشروط عوامی معافی مانگیں اور آئندہ ایسے بیانات دینے یا دہرانے سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ عمر عبداللہ نے 11 جولائی کو دعویٰ کیا تھا کہ منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کے تحت نیشنل کانفرنس کے بعض اراکینِ اسمبلی کو مالی اور سیاسی مراعات کی پیشکش کی گئی تھی۔ بی جے پی نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔






