امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی مصلح سونم وانگچک کو ہفتہ کی صبح دہلی پولیس نے جنتر منتر سے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا، جہاں وہ گزشتہ 20 دنوں سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ یہ کارروائی 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ سے دو روز قبل کی گئی۔
دہلی پولیس کے مطابق، یہ اقدام دہلی ہائی کورٹ کے احکامات اور ڈاکٹروں کے مشورے پر وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر کیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ کارروائی کے دوران بعض مظاہرین نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، تاہم اہلکاروں نے تحمل سے صورتحال کو سنبھالا اور مظاہرین سے پرامن انداز میں احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی۔
دوسری جانب مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس نے سونم وانگچک کو زبردستی احتجاجی مقام سے ہٹایا اور طلبہ کے ساتھ دھکم پیل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے دیگر طلبہ کے تحفظ کے لیے انسانی زنجیر بھی بنائی گئی۔
سونم وانگچک نے کارروائی سے چند گھنٹے قبل جاری ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ 20 روزہ بھوک ہڑتال کے باعث ان کے جسمانی وزن میں تقریباً 20 فیصد کمی آ چکی ہے اور ان کی صحت مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
ادھر دہلی ہائی کورٹ نے وانگچک کی طبی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے روزانہ طبی نگرانی اور ضرورت پڑنے پر فوری علاج کی ہدایت دی تھی۔ اس دوران عام آدمی پارٹی، سماج وادی پارٹی، کانگریس، این سی پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے جنتر منتر پہنچ کر وانگچک سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں، خصوصاً نیٹ پیپر لیک معاملے، تعلیمی اصلاحات اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے، جبکہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔






