راجوری، پونچھ، رام بن، ڈوڈہ، گریز اور کرگل میں تباہی؛ ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کو سنگین خطرہ قرار دے دیا
اُمت ڈیسک رپورٹ
جموں و کشمیر ایک مرتبہ پھر قدرتی آفات کی شدید لپیٹ میں ہے۔ مسلسل کئی روز سے جاری موسلا دھار بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بادل پھٹنے کے واقعات نے خصوصاً جموں خطے میں تباہی کی ایسی داستان رقم کی ہے جس نے پورے خطے کو سوگوار کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد27 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سینکڑوں خاندان بے گھر، ہزاروں افراد بنیادی سہولیات سے محروم اور وسیع علاقوں میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
اس المناک سلسلے کا سب سے دلخراش واقعہ ضلع پونچھ کے منڈی علاقے میں پیش آیا، جہاں لوران دمیلاں گاؤں میں شدید بارش کے بعد ایک پہاڑی تودہ کچے مکان پر آ گرا۔ ملبے تلے دب کر ایک ہی خاندان کے سات افراد، جن میں دو معصوم بچے بھی شامل تھے، جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو اہلکاروں، فوج، پولیس اور مقامی رضاکاروں نے گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد تمام لاشیں نکالیں، مگر اس سانحے نے پورے علاقے کو غم و اندوہ میں ڈبو دیا۔
ادھر ضلع راجوری میں دریائے سورن کی طغیانی نے کئی بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دریا کنارے قائم متعدد مکانات منہدم ہوگئے، درجنوں گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں اور کئی خاندانوں کو راتوں رات محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے جبکہ بجلی، موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
ضلع ڈوڈہ میں قومی شاہراہ پر پہاڑی پتھر گرنے سے ایک مسافر بس حادثے کا شکار ہوئی جس میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ رام بن میں دریائے چناب کے کنارے آباد درجنوں خاندانوں کو پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اسی دوران گریز اورکرگل میں بھی بادل پھٹنے اور اچانک سیلاب سے زرعی زمینوں، مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
شدید بارشوں کے اثرات صرف جموں خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ وادی کشمیر کے متعدد علاقوں میں بھی معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ضلع بڈگام کے بیروہ علاقے میں نالہ سکھناگ میں اچانک طغیانی آنے سے ملحقہ دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سیلابی پانی کئی رہائشی علاقوں، زرعی اراضی اور باغات میں داخل ہوگیا، جبکہ انتظامیہ نے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی۔
دارالحکومت سرینگر میں مسلسل بارش کے باعث شہر کے متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، کئی رہائشی کالونیوں میں پانی گھروں تک پہنچ گیا اور نکاسیٔ آب کا نظام شدید دباؤ کا شکار رہا۔
گاندربل کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور سیلابی پانی نے فصلوں، باغات اور رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ متعدد مقامات پر عوام کو آمد و رفت میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انتظامیہ، میونسپل اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیموں نے پانی کی نکاسی، حفاظتی بندوں کی نگرانی اور حساس علاقوں میں امدادی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ چند روز کے دوران بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو وادی کے مزید نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، ندی نالوں میں طغیانی اور مقامی سطح پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس تازہ صورتحال نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب جموں اور وادی کشمیر دونوں خطوں میں یکساں شدت کے ساتھ محسوس کیے جا رہے ہیں، جس کے پیش نظر جامع ڈیزاسٹر مینجمنٹ، شہری منصوبہ بندی اور آبی نکاسی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
شدید موسمی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پرامرناتھ یاترا کو دونوں راستوںپہلگام اور بالتل سے عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، جبکہ حساس علاقوں میں ریڈ الرٹ نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو دریاؤں، ندی نالوں اور پہاڑی ڈھلوانوں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دہلی کا اپنا دورہ مختصر کر کے جموں پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا، جبکہ فوج، پولیس، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور سول انتظامیہ کی ٹیمیں مسلسل ریسکیو اور راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ تاہم متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق متعدد دیہات اب بھی سڑکوں کی بندش اور مواصلاتی نظام کی تباہی کے باعث امداد کے منتظر ہیں۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک مزید شدید بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں خطے کے کئی اضلاع بدستور انتہائی حساس زون میں شامل ہیں۔ حکام نے عوام سے غیر ضروری سفر سے گریز اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کی سنگین وارننگ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید بارشوں، بادل پھٹنے، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ محض موسمی اتفاق نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے گہرے اثرات کی واضح علامت ہے۔ ہمالیائی خطہ ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں بے ہنگم تعمیرات، جنگلات کی کٹائی، غیر منصوبہ بند ترقی اور قدرتی وسائل پر بڑھتا دباؤ خطرات کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
یہ سانحہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صرف ہنگامی امدادی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی، جدید پیشگی انتباہی نظام، ماحول دوست ترقیاتی پالیسیوں، مضبوط انفراسٹرکچر اور عوامی بیداری کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ہر برس بارش کا موسم نئی تباہیوں، نئے المیوں اور نئے انسانی نقصانات کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑا ہوگا۔





