امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 23 جولائی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے اس بیان کو مسترد کیا ہے جس میں انہوں نے جے کے ایس ایس بی (جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ) کے پرچہ لیک معاملے کو موجودہ حکومت سے جوڑا تھا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا، جب جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت انتظامیہ برسرِ اقتدار تھی، جبکہ نیشنل کانفرنس-کانگریس حکومت نے 2024 میں اقتدار سنبھالا۔
عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ: "نڈا صاحب، آپ جے کے ایس ایس بی پرچہ لیک کا ذکر کرنے میں درست ہیں، لیکن آپ نے اس کی تاریخ غلط بتائی ہے۔ یہ 2022 میں ہوا تھا، اس وقت نہ نیشنل کانفرنس کی حکومت تھی اور نہ ہی کانگریس کی، بلکہ لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ تھی۔”
وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان کے ساتھ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ایک حکم نامے کا حصہ بھی شیئر کیا، جس میں لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت انتظامیہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ جے کے ایس ایس بی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کی رپورٹ کا کیا ہوا، اس بارے میں عوام کو آج تک آگاہ نہیں کیا گیا، اور امید ظاہر کی کہ جے پی نڈا اپنی آئندہ پریس کانفرنس میں اس کی تفصیلات بھی سامنے رکھیں گے۔
واضح رہے کہ 2022 میں جے کے ایس ایس بی کے تحت سب انسپکٹر، جونیئر انجینئر اور فنانس اکاؤنٹس اسسٹنٹ سمیت کئی بھرتی امتحانات مبینہ پرچہ لیک اور بدعنوانی کے الزامات کے بعد منسوخ کر دیے گئے تھے۔ اس وقت ممبئی کی کمپنی اپٹیک لمیٹڈ کو کمپیوٹر پر مبنی امتحانات منعقد کرانے پر بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، کیونکہ ماضی میں مختلف ریاستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث اس کمپنی کو بلیک لسٹ بھی کیا جا چکا تھا۔






