امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 23 جولائی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا مستقل خاتمہ صرف سکیورٹی کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے عوام کا اعتماد اور تعاون حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گھروں کو مسمار کرنے اور بڑی تعداد میں لوگوں کی گرفتاری جیسے اقدامات الٹا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
سری نگر میں ایک اسٹارٹ اَپ تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پولیس، فوج اور سی آر پی ایف ملی ٹنسی کے خلاف اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن اصل کامیابی اسی وقت ملے گی جب عام لوگ بھی اس جدوجہد میں حکومت کا ساتھ دیں۔
انہوں نے اننت ناگ میں ایک پولیس ہیڈ کانسٹیبل کے قتل کے بعد مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ سے وابستہ دو افراد کے مکانات مسمار کیے جانے اور بڑی تعداد میں گرفتاریوں کے حوالے سے کہا کہ وہ پولیس کے غصے کو سمجھتے ہیں، تاہم ایسے اقدامات سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ سکتے ہیں۔
دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بڑی تعداد میں نوجوانوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں احتجاج کا مذاق اڑایا گیا، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ نئی دہلی کے کئی علاقے متاثر ہوئے اور پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا کہ نوجوان ملک کے لیے اہم ہیں، اور کہا کہ اب حکومت کو چاہیے کہ وہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں سے بات چیت کرے اور ان کے حقیقی مطالبات پر غور کرے۔
عمر عبداللہ نے سماجی کارکن سونم وانگچک کے اس مطالبے کی بھی حمایت کی کہ پُرامن مظاہرین کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان پُرامن احتجاج کر رہے تھے، اس لیے ان سے مذاکرات کیے جائیں اور ان کے جائز مطالبات کو حل کیا جائے۔
جموں و کشمیر میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملات پر سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں کئی امتحانی پرچے لیک ہوئے تھے، تاہم اس معاملے کی تحقیقات اب سی بی آئی کر رہی ہے، اس لیے وہ اس کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔
اسٹارٹ اَپ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت تقریباً 1300 سے 1400 اسٹارٹ اَپس کام کر رہے ہیں اور حکومت کا ہدف ہر سال اس تعداد کو دوگنا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے، باغبانی، قابلِ تجدید توانائی اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں نوجوان کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
حالیہ سیلابی صورتحال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ پانی کی سطح خدشات سے کم رہی، تاہم بیروہ سمیت بعض علاقوں میں نقصان ہوا جہاں تقریباً 37 دکانیں بہہ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ضلع انتظامیہ کو متاثرین کے لیے معاوضے کے اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بادل پھٹنے اور شدید بارشوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں، اس لیے انفراسٹرکچر اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔






