امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 27 جولائی : جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے جنتَر منتر میں دیے گئے مبینہ بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متنازع بیان دینے کے بعد اسے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار شدہ قرار دینا قابلِ قبول نہیں۔
سرینگر میں رابطہ آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جس نے یہ بیان دیا ہے، اسے اس کے پس منظر کی وضاحت کرنی چاہیے، نہ کہ ویڈیو کی صداقت پر سوال اٹھا کر توجہ ہٹانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر جموں و کشمیر میں گرفتاریوں، پابندیوں یا طاقت کے استعمال کا جواز پیش کرنا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کی موجودگی انصاف سے محروم کرنے، عوامی حقوق محدود کرنے یا قانون کی حکمرانی کو نظر انداز کرنے کا بہانہ نہیں بن سکتی۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بعض سیاسی رہنما جموں و کشمیر میں ایک مؤقف اختیار کرتے ہیں جبکہ قومی دارالحکومت میں جا کر دوسرا مؤقف اپناتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی بیان سے عوامی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو مناسب رویہ یہ ہوتا کہ اس غلطی کو تسلیم کر کے معذرت کی جاتی۔
محبوبہ مفتی کی جانب سے ویڈیو کو اے آئی سے تیار شدہ قرار دینے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس تقریب کو متعدد میڈیا اداروں نے کور کیا تھا اور مختلف کیمروں نے ریکارڈ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ خود ویڈیو دیکھ چکے ہیں، اس لیے تنازع کھڑا ہونے کے بعد اسے اے آئی سے تیار شدہ قرار دینا قائل کرنے والا مؤقف نہیں۔
عمر عبداللہ نے 2015 میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد اور 2016 کے بعد کے سیاسی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں پر آج تک عوام سے کوئی معذرت نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے بیانات جمہوری تحریکوں کو کمزور کر سکتے ہیں اور ریاستی درجے کی بحالی سمیت عوام کے جائز مطالبات کے لیے آواز اٹھانے والوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے اس پورے معاملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو جموں و کشمیر کے عوام سے متعلق حساس معاملات پر نہایت ذمہ داری کے ساتھ اظہارِ خیال کرنا چاہیے۔






