امت نیوز ڈیسک //
جموں : کانگریس کے سابق رہنما غلام نبی آزاد نے اپنی پارٹی کے نام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا نام ڈیموکریٹک آزاد پارٹی ہوگا۔ قبل ازیں آزاد نے کانگریس چھوڑنے کے بعد جموں میں اپنی پہلی عوامی میٹنگ میں اپنی سیاسی تنظیم کے آغاز کا اعلان کیا تھا جو مکمل ریاست کی بحالی پر توجہ مرکوز کرے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے لوگ پارٹی کے نام اور جھنڈے کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں نے ابھی تک اپنی پارٹی کے لیے نام کا فیصلہ نہیں کیا۔ جموں و کشمیر کے عوام پارٹی کے نام اور جھنڈے کا فیصلہ کریں گے۔ میں اپنی پارٹی کو ایک ہندوستانی نام دوں گا، جسکو ہر کوئی سمجھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ‘میری پارٹی مکمل ریاست کی بحالی، زمین کے حقوق اور مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنے پر توجہ دے گی’۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سیاسی پارٹی کی پہلی اکائی جموں و کشمیر میں آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ‘میری پارٹی مکمل ریاست کا درجہ، زمین کے حق اور مقامی لوگوں کو روزگار کی بحالی پر توجہ دے گی’۔ کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ ہمیں (مجھے اور میرے حامیوں کو جنہوں نے پارٹی چھوڑی ہے) کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی پہنچ کمپیوٹر ٹویٹس تک محدود ہے۔
غلام نبی آزادپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ "کانگریس ہمارے خون سے بنی ہے، کمپیوٹر سے نہیں، ٹویٹر سے نہیں”۔ لوگ ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی پہنچ کمپیوٹر اور ٹویٹس تک محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس زمین پر کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے جموں کی سینک کالونی میں اپنی پہلی عوامی میٹنگ کی تھی۔ کانگریس پر طنز کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ کانگریس والے اب بسوں میں جیل جاتے ہیں، ڈی جی پی یا کمشنر کو فون کرتے ہیں، نام لکھواتے ہیں اور ایک گھنٹے کے اندر باہر آ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آزاد نے گزشتہ ہفتے آل پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ وہ 2005 سے 2008 تک جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ رہے۔









