امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں و کشمیر کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (جیل خانہ) ہیمنت لوہیا کو ان کی رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پایا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ گھریلو ملازم یاسر احمد نے ہی مبینہ طور پر لوہیا کا قتل کیا ہے، جسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔
ڈی جی پی (جیل) ہیمنت لوہیا کی موت کے واقعہ کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک گھریلو ملازم یاسر احمد ساکنہ رامبن کلیدی ملزم ہے۔ جائے وقوعہ سے جمع کی گئی کچھ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں مشتبہ ملزم کو اس جرم کو انجام دینے کے بعد بھاگتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ وہ اس گھر میں تقریباً چھ ماہ سے کام کر رہا تھا، ابتدائی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ وہ اپنے رویے میں کافی جارحانہ تھا اور ذرائع کے مطابق ذہنی دباؤ کا شکار بھی تھا۔
وہیں جموں و کشمیر ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ایچ کے لوہیا کچھ دنوں سے اپنے دوست کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے۔ رات کا کھانا کھا کر وہ واپس اپنے کمرے میں ارام کرنے چلے گئے۔ اس دوران گھریلو ملازم ان کی مدد کرنے کے بہانے کمرے کے داخل ہوا۔ اس کے بعد ملازم نے اندر سے دروازہ بند کردیا اور ان پر تیز دھار ہتھیار سے کئی حملے کئے، جس کے سبب ان کی موت ہوگئی۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں جیلوں کے ڈائریکٹر جنرل ہیمنت کمار لوہیا جموں شہر کے مضافات کے ایک گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ اے ڈی جی پی جموں زون مکیش سنگھ نے کہا کہ ڈی جی (جیل خانہ جات) ہیمنت لوہیا کی لاش مشکوک حالات میں پائی گئی ہے۔ جائے وقوعہ کی ابتدائی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک مشتبہ قتل کیس ہے۔










