کیا کوئی ہے جو اس سے سبق حاصل کرکے مستقبل میں ممکنہ تباہی کی شدت کو کم کرنے سعی کرے
’’انکل ہمیں یہاں سے نکال لیں۔ ہم زندگی بھر آپ کی خدمت گار بنے رہیں گی۔‘‘یہ الفاظ ایک شامی بچی کے ہیں جو کئی ٹن وزنی ملبے تلے اپنے ساتھ دبی ہوئی چھوٹی بہن کا سر بچانے کےلئے اس پر اپنا بازو بچھائے‘بچائو کاروائیوں میں منہمک رضاکاروں سے انہیں ملبے سے نکالنے کی درخواست کررہی ہے۔ یقیناً یہ الفاظ کسی بھی ذی حس انسان کے دل کو چیر دینے کےلئے کافی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملبے تلے دبی شامی لڑکی اپنی چھوٹی بہن کے سر کو اپنے ہاتھ پر رکھے اور اسے اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ دونوں بہنیں ایک بڑے بلاک کے نیچے دبی تھیں اور حرکت کرنے سے بھی قاصر تھیں تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ شامی لڑکی اپنی چھوٹی بہن کو حوصلہ دیتی رہی۔ ریسکیو ٹیم جب موقع پر پہنچی تو امدادی ٹیم کے ایک اہلکار نے شامی لڑکی کو باتوں میں لگایا تاکہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک انہیں اطمینان دلایا جا سکے۔ اہلکار نے اس سے چھوٹی بہن کے کھلونوں کے بارے میں پوچھا؟ ملبے تلے دبی شامی لڑکی نے ریسکیو اہلکار سے کہا کہ ’انکل مجھے یہاں سے نکال لیں۔ میں زندگی بھر آپ کی خدمت کرتی رہوں گی‘۔ مقامی میڈیا اور ریسکیو اہلکاروں کے مطابق لڑکی اور اس کی بہن کو زلزلے کے سترہ گھنٹے بعد ملبے سے نکال لیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شام میں حلب کے جندریس علاقے میں ملبے تلے دبی ایک بچی کو نکالنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ بچی بے ہوش تھی۔ اسی دوران ایک اہلکار نے بچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے بابا یہاں ہیں۔ یہ سنتے ہی بچی کے اندر حرکت پیدا ہوئی اور وہ بلا ارادہ دیکھنے لگی۔ گھنٹوں ملبے تلے دبے رہنے سے بچی کے پورے چہرے پر مٹی لگی ہوئی تھی۔
6فروری کی صبح آنے والے قیامت خیز زلزلے نے شام،ترکیہ اور آس پاس کے علاقوں میں ایسی ہی کئی دل دوز کہانیوں کو جنم دیا ہے۔ترکی (ترکیہ) کے جنوب ( ترکی کے صوبہ غازیان تپ کے قصبے نوردگی )اور شام کے شمال مغربی سرحدی علاقوں میںپیر صبح 4بجکر17منٹ پر جب زیادہ ترلوگ سو رہے تھے کہ اس صدی کے ایک قیامت خیز زلزلے نے تباہی مچادی جس کی ریکٹر سکیل پر شدت7 اعشاریہ8ریکارڈ کی گئی ہے۔ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں لوگ تباہ ہونے والی5ہزار سے زائد عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس زلزلے نے صرف شام کے علاقوں میں قریب3 لاکھ افراد کو بے گھر کردیا ہے۔سب سے بڑا مسئلہ مسلسل محسوس کئے جانے والے ہزاروںجھٹکوں(آفٹر شاکس) کاہے جو کئی روز گزرنے کے بعد بھی آتے رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق مرنے والوں کی تعداد کم سے کم8گنا تک بڑھ سکتی ہے جبکہ امریکی جیالوجیکل سروے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ ملبے سے لوگوں کو نکالنے کے لئے بڑے پیمانے پر امداد ی سرگرمیاں جاری ہیں مگر شدید سردی اور بارش کی وجہ سے ان میں رکاوٹ پڑ رہی ہے۔ زلزلے سے ترکی کے دس شہر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے اور ایک ہفتے کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ قومی پرچم سرنگوں کردیا ہے۔
زلزلے کا مرکز جنوبی ترکی سے23کلومیٹر دور اور گہرائی17 اعشاریہ9 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ ترکی اور شام کے علاوہ قبرص ، یونان، اردن، لبنان، جارجیا، آرمینیا اور اسرائیل میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے مگر جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔بتایا گیا ہے کہ 1939ءکے بعد یہ سب سے بڑی قدرتی آفت ہے جس کا ترکیہ کو سامنا کرنا پڑا ہے۔کئی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔زلزلے سے ترکی کے10 شہر متاثر ہوئے ہیں اور خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق تباہ شدہ علاقوں میں یا اللہ ، یا اللہ کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں۔ زلزلے ایسی قدرتی آفت ہیں جن کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی اس لئے ان کے سد باب کا بھی کوئی طریقہ دریافت نہیں ہوا ہے۔ مگر بتایا گیا ہے کہ نیدر لینڈ کے ایک ماہر طبقات الارض نے تین روز پہلے سوشل میڈیا پر پیش گوئی کی تھی کہ اس علاقے میں جلد یا بدیر7 اعشاریہ 5شدت کا زلزلہ آئیگا جو صحیح ثابت ہوئی۔ اس پر دھیان دیا جاتا اور لوگوں کو خبردار کردیا جاتا تو شاید اتنی بڑی تباہی نہ پھیلتی۔ شام میں ترکیہ سے بھی زیادہ تباہی آئی ہے مگر اس کی تفصیلات ہنوز نہیں بتائی جاسکیں کیونکہ وہاں کا بشار الاسد حکومتی ڈھانچہ مضبوط و مربوط نہیں ہے۔
اس قیامت خیز زلزلے نے کشمیریوں کو 2005 عیسوی کے زلزلے کی یاد دلادی ہے کہ جب کچھ ہی ساعتوں کے اندر آر پار کشمیر، پاکستان کے صوبہ پختون خواہ اور پاکستانی دارالخلافہ اسلام آباد میں لاکھوں انسانوںکو ہلاک ،زخمی اور بے گھر کردیا تھا۔کشمیر اور پاکستان کے کئی علاقے زلزلے کی فالٹ لائن پر واقع ہیں اوراس خطے میں وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔2005 عیسوی میںآر پارکشمیر اور خیبر پختونخوا میں آنے والا زلزلہ سب سے ہولناک تھا جس کے بعد کوشش کی جانی چاہئے تھی کہ سائنسی تحقیق کے ذریعے زلزلوں کی پیش گوئی ممکن بنائی جائے تاکہ لوگوں کو پہلے ہی خبردار کرکے نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ لیکن ایسا کرنا تودور ہم نے ماضی سے سبق نہ سیکھنے کی اپنی روایت نبھاتے ہوئے ہم نے نئی عمارتیں اور تعمیرات بنانے کے ضمن میں ماہرین کی رائے کو بھی یکسر مسترد کردیا ہے اور وہی ہے چال بے ڈھنگی جو تب تھی سو اب بھی ہے کے مصداق چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کے لئے ماضی کے کرب کو فراموش کردیا ہے۔
واضح رہے آج تک کے عالمی ریکارڈ کے مطابق سب سے طاقتور زلزلہ9 اعشاریہ5شدت کا تھا جو مئی1960میںجنوبی امریکی ملک ’چلی‘ میں آیا تھا۔ اس پیمانے کی بنیاد پر ترکیہ کا حالیہ زلزلہ جس کی شدت7اعشاریہ9 تھی ایک بہت طاقتور زلزلہ ہے۔ ترکیہ کا یہ زلزلہ کیوں اتنا مہلک اور تباہ کن ہے اس بارے میں سائنس دانوں کی مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ زلزلے میں ہونے والی تباہی کا ایک سبب پہلے زلزلے کے بعد آنے والے سینکڑوں آفٹر شاکس کا ہے جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ نقصانات ہوئے۔ درجنوں تباہ کن آفٹر شاکس جو مرکزی زلزلے کے بعد اس علاقے میں آتے رہے، اس علاقے کو مسلسل ہلاتے رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ پہلے زلزلے کے کوئی 11 منٹ بعد 6 اعشاریہ7 شدت کا آفٹر شاک آیا۔ اور بعد ازاں 7 اعشاریہ 5 شدت کا ایک اور زلزلہ دوپہر ایک بجے کے بعد آیا۔کچھ سائنس دان اسے محرک زلزلہ کہتے ہیں، دوسرے اسے ثانوی فالٹ پر آفٹر شاک کہتے ہیں اور کسی نے کہا کہ یہ ’’ڈبلٹ‘‘ زلزلہ ہو سکتا ہے یعنی دوسرا مرکزی زلزلہ جو پہلے آنے والے زلزلے کی زمین سے قریب ہی واقع ہوا تھا۔
ترکی میں زلزلوں کی وجہ کیا ہے؟ترکی زلزلے کے گرم مقام پر بیٹھا ہے۔ اس خطے میں تین ٹیکٹونک پلیٹس عربی، اناطولیہ اور افریقی پلیٹ میں جمع ہوتی ہیں اور جیسے ہی وہ ایک دوسرے کےمخالف پھسلتی یا گزرجاتی ہیں، ان میں رگڑ اور تناؤ پیدا ہوتا ہے جو زلزلوں کا باعث بنتا ہے۔ ایک ماہر زلزلہ یاریب التاویل کے مطابق عرب پلیٹ ہر سال تقریباً11ملی میٹر (صرف آدھے انچ سے کم) کی رفتار سے شمال کی طرف دبائوچلا رہی ہے جس سے ترکی، جو اناطولیہ پلیٹ پر بیٹھا ہے، مغرب کی طرف مسلا جا رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ترکی میں دو بڑے فالٹ موجود ہیں جہاں سے زلزلے آتے ہیں، 930میل طویل شمالی اناطولیہ فالٹ اور300میل سے زیادہ طویل مشرقی اناطولیہ فالٹ۔ ترکی کے بہت سے بڑے زلزلوں کی ابتدا شمالی فالٹ سے ہوتی ہے اور اس نے استنبول کے مرکز آبادی کے قریب ایک بڑے زلزلے کے امکان کی وجہ سے توجہ حاصل کی ہے۔اس سوال پر کہ یہ زلزلہ اتنا جان لیوا کیوں تھا،ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی سنگین تعداد کئی عوامل کا نتیجہ ہے۔ ان میںزلزلے کا بڑا حجم ایک ہے جبکہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ زلزلہ سطح کے نسبتاً قریب سے ٹکرایا ہے اور اس کی قربت میں بہت سارے لوگ آباد تھے۔ پیر کے زلزلے کی ابتدا سطح سے محض تقریباًگیارہ میل نیچے تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ زلزلےکی لہروں کو عمارتوں اور سطح پر موجود لوگوں تک پہنچنے سے پہلے زیادہ سفر نہیں کرنا پڑا تھا، جس کی وجہ سے زیادہ شدید جھٹکے محسوس کئے گئے اور یوں برے نقصانات ہوئے۔ ایک اور وجہ مرکزی زلزلے کے بعد آنے والے بڑے آفٹر شاکس تھے ۔ماہرالتاویل کے مطابق اس زلزلے کے آفٹر شاکس بھی بڑے تھے اور ان کے جاری رہنے کی توقع ہے۔التاویل کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً 40آفٹر شاکس آئے ہیںاور یہ سلسلہ جاری ہے اور اس سے مذید تباہی کا خدشہ لاحق ہے۔اس سوال پر کہ کیا بہتر تعمیراتی اصولوں پر عمل کرنے سے نقصانات کو کم کیا جاسکتا تھا، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا یقیناً ممکن تھا لیکن محسوس ہوتا ہے کہ فالٹ لائین پر ہونے کے باوصف اس معاملے میں بھی تغافل یا تساہل برتا گیا ہے۔
یو ایس جیولوجیکل سروے نے اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ اس خطے کی آبادی ایسے ڈھانچوں میں رہتی ہے جو زلزلے کے جھٹکوں کے لیے انتہائی خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں، حالانکہ یہاں کچھ مزاحمتی ڈھانچے بھی موجود ہیں۔یو ایس جی ایس نے اُن عمارتوںکی نشاندہی کی تھی جو اینٹوں کی غیر مضبوط چنائی اور کم بلندی والے کنکریٹ کے فریموںسے بنی تھیں اور زلزلے کے نتیجے میں سب سے زیادہ خطرے میں ہونے کا امکان رکھتی تھیں۔ اس ادارے کا کہنا تھا کہ ان عمارتوں میں لگا ہوا تعمیراتی مواد ہلنے کے ساتھ جھومنے کے لیے کچھ زیادہ سخت ہے اوربایں وجہ اس کے جھکنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو تباہ کن طریقے پرگرنے کا باعث بنتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ بہتر تعمیراتی اصولوں پر کاربند رہنا مدد کر سکتا ہے، لیکن 7اعشاریہ 8شدت کے زلزلہ بہت شدید جھٹکوں کا باعث بناجس سے مضبوط تر عمارتیں بھی منہدم ہوئیں اور یوں ہلاکتوں کا باعث بنیں۔واضح رہے کہ ماضی میں اس خطے میں قابل ذکر زلزلوںکی کئی مثالیں موجود ہیں ۔موجودہ زلزلے کو 1939 کے بعد ترکی میں کہیں بھی آنے والا سب سے بڑا زلزلہ سمجھا جاتا ہے، جب ملک کے شمال مشرقی حصے میں 7 اعشاریہ8شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ مارچ1970میں، مغربی ترکی میں7 اعشاریہ ایک شدت کا ایک تباہ کن زلزلہ آیا، جس میں ایک ہزارسے زیادہ افراد ہلاک اور8 ہزارسے زیادہ عمارتیں تباہ ہو گئیں۔اور اگست 1999میں،7اعشاریہ4شدت کے ایک تباہ کن زلزلے نے شمال مغربی ترکی کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے17 ہزارسے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوںلوگ بے گھر ہوئے۔ اس کے بعد چند ماہ بعد ایک اور7 اعشاریہ2 شدت کا زلزلہ آیا جس میں8 سوسے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ 24جنوری2020کو مشرقی ترکی میں بھی 6اعشاریہ 7شدت کا زلزلہ آیا۔
ترکی اور شام میں تباہ کن زلزلے کے بعد ایک بار پھر جموں وکشمیر میں بڑے زلزلے کے امکانات پر بات ہونے لگی ہے۔ حال ہی میں کئی اخبارات اور جرائد کے اندر اس حوالے سے کچھ اقدامات اٹھانے کی بھی باتیں کی گئی ہیں۔ جموں و کشمیر میں گزشتہ چند ماہ سے زلزلوں کی خبریں سامنے آرہی ہیں جن کی نوعیت سنگین نہیں ہوتی ہے اور عمومی طور پر اب تک کسی بڑے نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی۔ ان زلزلوں کی شدت چونکہ ریکٹر سکیل پر3سےکم ہی ہوتی ہے اس لئے کوئی ان جھٹکوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے۔ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ کچھ عرصے سے جموں و کشمیر میں اوسطا ًہر ماہ زلزلے کے تین سے چار جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں لیکن حکومتی سطح پر ان دیکھی کر کے مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ ان حرکات شاقولی کو سرسری لے رہی ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم گویا آتش فشاں کے ڈھیر پر ہیں جو خدا نہ کرے، کبھی بھی ہمیں نگھل سکتا ہے۔ گزشتہ ایک دو برس کے دوران ماہرین ارضیات نے کشمیر میں زلزلوں کے حوالہ سے جو انکشافات کئے ، وہ ارباب اقتدار کی آنکھیں کھولنے کےلئے کافی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی وقت وادی میں اس قدر شدید زلزلہ آ سکتا ہے جو اس خطے کی جغرافیائی ہیئت کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آج سے ہی احتیاطی تدابیر سے کام نہیں لیا گیا تو بھاری پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ ان ماہرین کے انتباہ کو سنجیدگی سے لیتی، لیکن لگتا ہے کہ یہ سب صدا بہ صحرا ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی عالمی سطح پر کی گئی ایک تحقیق میںواضح طور پر بتایا گیا تھا کہ جموں وکشمیرزلزلوں کے اعتبار سے ایسے سیسمک زون میں آتا ہے جہاں زلزلوں کی شدت ریکٹر سکیل پر 6سے8 تک ہوسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق وادی اور چناب خطہ کا شاید ہی کوئی علاقہ ہو گا جہاں تباہ کن زلزلہ آنے کا اندیشہ نہ ہو، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سبھی اس حقیقت سے آنکھیں چرانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ جموں و کشمیر میں بے تحاشا تعمیرات ہو رہی ہیں اور حکومت کی جانب سے آج تک ایسے تعمیری ضوابط وضع ہی نہیں کئے جارہے ہیں جن کے عملانے سے زلزلہ کے وقت کم سے کم نقصان ہوتا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ وادی بھر میں زلزلہ کی شدت برداشت کرنے والے تعمیراتی ڈھانچہ کی عدم موجودگی مستقبل میں بہت بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر وادی میں 75 فیصدعمارتیںزلزلے کیلئے محفوظ نہیں کیونکہ انہیں بنانے کے دوران اس چیز کا کوئی بھی خیال نہیں رکھا گیا ہے کہ یہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کر پائیں گی یا نہیں۔
بہرحال ترکی کے حالیہ تباہ کن زلزلےہماری آنکھیں کھول دینے کےلئے کافی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ جب بلند بانگ دعوئوں کے بجائےعملی طور کچھ کر گزرنے کی ضرورت ہے، تا کہ اگر خدانخواستہ آنے والے دنوں میں ایسی کوئی قدرتی آفت جموں و کشمیر کو ہلا ڈالے تو اس وقت کم سے کم جانی اور مالی نقصان اٹھاناپڑے۔










