ہر گزرتے دن کے ساتھ ذہنی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پوری دنیا میں ذہنی امراض نے لوگوں کو گھیرا ہے۔ جموں و کشمیر بھی اس کی زد میں ہے۔ یہاں بھی ذہنی مریضوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ مرض، مرض ہے۔ ان میں فرق کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ فرق اس لحاظ سے ہمارے یہاں کچھ امراض اپنے ساتھ منفیات کے عناصر رکھتے ہیں۔ ذہنی امراض بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔ ان امراض کو امراض کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ ایک گناہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کے متعلق بات کرنا بھی باعث شرمندگی ہے۔
ان امراض کے پیچھے بہت سارے وجوہات کا عمل دخل ہیں۔ سب سے پہلا ہے سیاسی افراتفری۔ سیاسی افراتفری ملک کے اندر ہوں یا پھر بہت سارے ممالک کے درمیان، اس کے اول اور آخری شکار عام لوگ ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ملک کی حالت خراب ہوجاتی ہے۔ لوگ مارے جاتے ہیں اور زخمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ گھر کے گھر تباہ ہوجاتے ہیں ۔ مال اور جائداد کا بھی نقصان ہوجاتا ہے اور کھیتوں کے کھیت بنجر بن جاتے ہیں۔ اس قسم کی صورتحال سے انسانی ذہن مقابلہ نہیں کرپاتا ہے اور دباؤ کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن جاتا ہے۔ اپنوں کے کھونے کا غم اور محنت سے کمائی ہوئی دولت کو آنکھوں کے سامنے تباہ ہوتے ہوئے دیکھ کر انسان ذہنی امراض کی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے۔
دوسرا ہے معاشی پریشانیاں۔اس دنیا میں جینے کے لئے کمانا شرط ہے۔ کمانے کے لئے ذرائع درکار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نوکری اور مزدوری جینے کے لئے اہم ہیں۔ مگر پیچیدگیاں تب پیدا ہوتی ہیں جب نوکری اور مزدوری دونوں کا فقدان ہوں۔ آج کے زمانے میں مہنگائی عروج پر ہے۔ اس نے غرباء کی کمروں کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ اب مشکل سے دو وقت کی روٹی کما پاتے ہیں۔ اس میں بھی پریشانیوں کے پہاڑ راستہ روکے ہوئے ہیں۔ مزید براں پڑھے لکھے ہوئے طلباء کو سرکاری نوکریاں ڈھونڈنے میں بہت زیادہ دشواریاں آرہی ہیں۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں طلباء مختلف جامعات سے پاس ہو کر روزگار کے بازار میں قدم رکھتے ہیں۔ مگر ان بازاروں میں پہلے سے ہی ان جیسے کتنے ہیں جو اس امید میں بوڑھے ہوگئے کہ ایک دن وہ سرکاری نوکر بنے گے۔ اس سے جڑے ہوئی بات یہ بھی ہے کہ نجی دفاتر میں بہت سارے طلباء کام کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔ کچھ طلباء کو نجی سیکٹر میں کام کرنے سے شرم آتی ہے۔ تو نوکری کا انتظار کرتے کرتے اور نوکری کے مواقع معدوم دیکھتے ہوئے یہ طلباء خود ہی inferiority complex کی دنیا میں چلے جاتے ہیں اور ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں طعنہ دینا بھی عام بات ہے۔ جو طلباء لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہوسکے، ان کو طعنوں کا شکار کیا جاتا ہے اور ذہنی کوفت کے ادوار سے گزار دیا جاتا ہیں۔
تیسرا ہے ذاتی وجہ۔ ہر انسان مختلف ہے۔ زندگی کے ہر میدان میں الگ الگ نفسیات کے لوگ رہتے ہیں۔ ذائقہ الگ الگ ہے۔ خیالات بھی مختلف ہیں۔ زندگی جینے کے طریقے بھی مختلف ہیں۔ جب سوچ کے ناموافق حالات ہوتے ہیں تب بھی ذہن کی الجھنے بڑھ جاتی ہیں ۔ مختلف زاویے سے دنیا کو دیکھنے والا انسان جب الگ اقسام کے حالات سے مقابلہ کرتا ہیں اور بے بسی کا شکار ہوجاتا ہے، تو ذہنی امراض کے بڑھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چوتھا اور آخری ہے پرانی سوچ۔ ہمارے یہاں پرانے طریقوں پر آج بھی زندگیاں گزاری جاتی ہیں۔ موجودہ زمانہ الگ قسم کی ذہنیت مانگتا ہے۔ چیزوں سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کی رغبت دلاتا ہے۔ پرانے اور نئے مسائل کے مختلف حل ڈھونڈنا چاہتا ہے۔ نئے طرز کا سماج بنانا چاہتا ہے۔ مگر بےجا رسموں اور رواجوں کی پیروی کی وجہ سے بھی حساس ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں کہ اب ترجیحات بدل گئی ہیں۔ اب انسان بدل گیا ہے۔ اب دنیا بھی کافی حدتک بدل گئی ہے۔ ایسے میں پتھر دور کی باتیں کرنا کہاں زیبا دیتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں غاروں کی باتیں ہمارے شایان شان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے وجوہات ہیں۔
ان چھپے ہوئے امراض سے نکلنے کے لیے کئی اقدامات اٹھانے ہوگے۔ انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک ہر کسی کو اس میں آگے آنا ہوگا۔ گورنمنٹ کو بھی اس معاملے میں حساس ہونا چاہئے۔ یہ وہ آگ ہے جس میں دھواں نہیں ہے، مگر اس میں تباہی کا عنصر برابر موجود ہے۔ یہ نسلوں کی نسلوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اکیلا پن،چڑچڑاپن اور ذہنی تناؤ سے نجات پانے کے لیے تعلیمی اداروں سے لے کر مذہبی اداروں کو محنت کرنی ہوگی۔ پیسوں کے علاوہ یہ تجربہ کار لوگوں کی خدمات مانگتا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ذہنی امراض کا سیلاب بستیوں کی بستیوں کو تباہ کر رہا ہے۔ حالات اور زیادہ خراب نہ ہوں، اسلئے سب کو بنا وقت ضائع کیے ہوئے آگے آنا ہوگا اور ذہنی امراض کے شکار مریضوں کا سہارا بننا ہوگا۔







