امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی:مرکزی حکومت نے جمعرات کو کہا کہ ملک میں پہلی بار جموں و کشمیر میں 5.9 ملین ٹن لیتھیم کے ذخائر پائے گئے ہیں۔ لیتھیم ایک الوہ دھات ہے اور ای وی بیٹریوں کے اہم اجزاء میں سے ایک ہے۔ کانوں کی وزارت نے جمعرات کو کہا کہ جیولوجیکل سروے آف انڈیا کو پہلی بار جموں و کشمیر کے ریاسی ضلع کے سلال-ہیمانہ علاقے میں 5.9 ملین ٹن کے لیتھیم انفریڈ ریسورسز (G3) ملے ہیں۔ وزارت نے مزید کہا کہ لیتھیم اور گولڈ سمیت 51 معدنی بلاکس متعلقہ ریاستی حکومتوں کے حوالے کیے گئے ہیں۔ان 51 معدنی بلاکس میں سے پانچ بلاک سونے سے متعلق ہیں اور دیگر بلاکس پوٹاش، مولبڈینم، بیس میٹلز وغیرہ سے متعلق ہیں جو ملک کی 11 ریاستوں جیسے جموں و کشمیر، آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات، جھارکھنڈ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ، راجستھان، تمل ناڈو اور تلنگانہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔
مذکورہ تمام بلاکس جی ایس آئی کے فیلڈ سیزن 2018-19 سے لے کر آج تک کیے گئے کام کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے۔ان کے علاوہ 7897 ملین ٹن کے کل وسائل کے ساتھ کوئلہ اور لگنائٹ کی 17 رپورٹیں بھی وزارت کوئلہ کے حوالے کی گئیں۔اجلاس کے دوران مختلف موضوعات اور مداخلت کے شعبوں پر سات اشاعتیں جن میں جی ایس آئی کام کرتا ہے بھی جاری کیا گیا۔ مزید کہا کہ آئندہ فیلڈ سیزن 2023-24 کے لیے مجوزہ سالانہ پروگرام کو میٹنگ کے دوران پیش کیا گیا اور اس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آنے والے سال 2023-24 کے دوران جی ایس آئی 966 پروگرام منعقد کر رہا ہے جس میں 318 معدنیات کی تلاش کے منصوبے شامل ہیں جن میں 12 سمندری معدنی تحقیقاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔مزید پڑھیں:۔معدنیات کی کھدائی کے لئے جدید سائنسی نقطہ نظر اپنانے پر زوروزارت کا کہنا ہے کہ جیولوجیکل سروے آف انڈیا نے اسٹریٹجک اور اہم معدنیات پر 115 منصوبے اور کھاد معدنیات پر 16 منصوبے بنائے ہیں۔ جیو انفارمیٹکس پر 55 پروگرام، کثیر الشعبہ جیو سائنسز پر 140 پروگرام اور تربیت و ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر کے لیے 155 پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔ جیولوجیکل سروے آف انڈیا (GSI) 1851 میں ریلوے کے لیے کوئلے کے ذخائر تلاش کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ برسوں کے دوران جی ایس آئی(GSI) نہ صرف ملک کے مختلف شعبوں میں درکار جیو سائنس کی معلومات کے ذخیرے میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس نے بین الاقوامی شہرت کے حامل جیو سائنسی ادارے کا درجہ بھی حاصل کر لیا ہے۔








