اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ سماج میں سب سے اہم و عظیم ادارہ’’کنبہ‘‘(Family) ہے۔اگرچہ سماج مختلف اقسام کے سماجی اداروں سے بھرا پڑا ہے لیکن فیملی سب سے اہم درجہ رکھتی ہے – انسان کے آس پاس تمام عارضی آرام گاہوں میںفیملی وہ پناہ گاہ ہے جہاں انسان سکون،پیارو جذباتی تحفظ کے ساتھ ہر اس چیز سے سرشار ہوتا ہے جو اس کی بنیادی ترقی و انسانی ارتقاء کے لیے بے حد ضروری ہے۔فیملی اپنے ارکان کی تمام بنیادی ضروریات پوری کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتی،بغیر فیملی سپورٹ دنیا میں کوئی بھی انسان ترقی و عروج سے ہمکنار نہیں ہوسکتا۔یہ ایک ایسی فیکٹری ہے جو تربیت یافتہ انسان فراہم کرتی ہے،بوڑھے والدین، دادا دادی، اور خاندان کے دیگر افراد (خصوصی قابل افراد) کے لیے جب وہ آزادانہ طور پر کام نہیں کر سکتے تو خاندان ان کی دیکھ بھال کے لیے زیادہ گہرا، پیچیدہ اور دیرپا کردار ادا کرتا ہے اور صحت کے منفی اثرات کو کم کرتا ہے۔ان کے لیے فیملی تاریک ساگر میں روشنی کا گھر ہے۔
فیملی میں سب سے موثر و معتبر کردار باپ کاہے۔ایک عقلمند باپ ایک عظیم تحفہ سے کم نہیں،جو فیملی کے لیے رہنما ہوتا ہے ۔یہ عظیم تحفہ ہر حالات میں اپنے بچوں کا خیر خواہاں ہے۔.فیملی پر باپ کا سائیہ بچوں کی زندگی کی ارتقاء کے لیے سنہری کِرن ہے۔باپ اپنی تمام خواہشیں قربان کر کے اپنے بچوں کی خواہشیں پورا کرتا ہے۔ بہرحال باپ کے کردار کو قلمبند کرنے کے لیے میری پاس الفاظ نہیں۔
کرہ ّارض پر سب سے عظیم ہستی ماں ہے ۔لفظ ماں سنتے ہی شفقت ،لازوال و غیر مشروط محبت کا خیال آتا ہے۔اسلام نے واضح کیا کہ جنّت ماں کے قدموں تلے ہے،ماں کی خدمت کرنا جنت جانے کا آسان راستہ ہے۔ایک روشن خیال ماںفیملی کی تقدیر سنورنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ایک مشہور قول ہےکہ ایک فرد کی تعلیم فرد کی ہی تعلیم ہے لیکن ماں کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے۔الغرض ماں کسی انمول تحفہ سے کم نہیں۔
لیکن بدقسمتی کے ساتھ آج کل ترقی کے نام پر ہم بڑے ہوکر والدین ،خصوصی قابل افراد کو تن تنہا چھوڑجاتےہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ’تعلیم یافتہ‘ لوگ اس فعل میں محو عمل ہے اور ان کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں۔ اگرچہ والدین ہمیں اُنگلی تھام کے چلنا سکھاتے ہیں۔ دل بہت ناشاد ہوتا ہے جب ہماری فیملیوں میں بزرگ والدین،خصوصی قابل افراد کی زندگی بدترین حالات میں گزرتی ہے۔۔۔ فیملی ہم زبان،ہم خیال لوگوں کا ممبا ہوتا ہے لیکن اگرپھر بھی اس ادارے میں بڑوں یا دیگر خصوصی قابل افراد کی زندگی تنگی و تشنگی میں گزرے تو ان لوگوں کے لیے یہ ادارہ کسی جیل،جہنم اور قیامت سے کم نہیں!! .خدا ہمیںشعور سے نوازے۔آمین۔
(لکھاری یونیورسٹی آف کشمیرمیں شعبہ سیاسیات کےطلب علم ہے۔)








