• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
بدھ, جنوری ۲۸, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
انہدامی کاروائیوں کے بعد جائیداد پر ٹیکس کا نیا غوغا!

انہدامی کاروائیوں کے بعد جائیداد پر ٹیکس کا نیا غوغا!

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
24/02/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

نئےتادیبی قوانین کی بے دھڑک آمد سے عوام کا فشار خون مائل بہ بلندی

مرکزی حکومت کی جانب سے سرکاری اراضی کی بازیابی اقدام کے تحت جاری انہدامی کارروائی خدا خدا کرکے ابھی رُکی ہی تھی کہ ریاستی انتظامیہ نے عوام پر ایک اور قانونی بم گرادیا جس کے تحت یکم اپریل 2023 سے پراپرٹی ٹیکس لینے کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں انتظامیہ کی طرف سےایک نوٹیفکیشن جاری کر دی گئی ہے۔منگل21 فروری کو جاری کئے گئے اس نئے قانون کے مطابق جموں وکشمیر کے رہائشیوںسے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کی فیصلہ کیا گیا ہے۔پراپرٹی ٹیکس رہائشی املاک پر5فیصداور غیر رہائشی املاک پر6 فیصدلیا جائے گا جب کہ یہ قوانین یکم اپریل 2023 سے نافذ العمل ہوں گے۔ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ’’جموں وکشمیر میونسپل ایکٹ 2000 کے سیکشن71کے ذریعے حاصل شدہ اختیارات کے تحت حکومت جموں وکشمیر میونسپلٹیوں اور میونسپل کارپوریشنوں میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی، نفاذ اوراس کی نشاندہی کے لے قوانین مقرر کرتی ہے۔‘‘

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ان قوانین کو جموں وکشمیر پراپرٹی ٹیکس کے نام سے جانا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قوانین یکم اپریل سے نافذ العمل ہوں گے۔ واضح رہے کہ پراپرٹی ٹیکس رہائشی اور غیر رہائشی دونوں جائیدادوں پر عائد کیا جائے گا۔ واضح رہے وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو اکتوبر 2020میں میونسپل کارپوریشنوں، میونسپل کونسلوںاور میونسپل کمیٹیوں کے ذریعے پراپرٹی ٹیکس لگانے کا اختیار دیا تھا۔ نئی عمارتوں کے بارے میں نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ ٹیکس بلاک کے آغاز کے بعد آنے والی نئی عمارتوں پر ان کی پراپرٹی ٹیکس متعلقہ بلاک کے پہلے دن کے حوالے سے شمار کی جائے گی، اور قطع نظر اس کے کہ وہ تین سال مکمل کر چکے ہوں، ان کی ٹیکس کے زمرے میں ہے۔ مجموعی طور پر کارپوریشن کے لیے تین سال کے نئے بلاک کے آغاز کی تاریخ سے نئے سرے سے حساب لیا جائے گا۔حکم نامے میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا فارمولہ بھی دیا گیا ہے جبکہ متعلقہ آفیسران کو اس فارمولہ کے بارے میں درکار ہدایت دی جارہی ہے۔

جموں وکشمیر سرکار کی جانب سےحکم نامہ جاری کرنے کے بعد شہری علاقوں میں زمینوں کا ٹیکس لینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ٹیکس فی الحال بلدیاتی علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔ٹیکس کیسے جمع کیا جائے گااس بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ایکٹ کے باب4 میں تجویز کردہ طریقہ کار، سوائے اس کے کہ یہ کسی پراپرٹی پر واجب الادا ٹیکس کے حساب سے متعلق ہے، پراپرٹی ٹیکس کی تشخیص اور وصولی کو منظم کیا جائےگا۔ پراپرٹی ٹیکس کا ذمہ دار شخص ایگزیکٹو آفیسر یا اس کے ذریعہ اختیار کردہ کسی بھی افسر کو جائیداد کی تفصیلات اور اس پر واجب الادا ٹیکس مالی سال کے 30مئی تک فارم۔1میں پیش کرے گا جس سے ریٹرن کا تعلق ہے۔ اس کے ساتھ فارم۔2 میں ادائیگی کا ثبوت ہونا چاہیے۔ ریٹرن فائل کرنے کا اعتراف فارم۔3 میں ہوگا۔ ٹیکس کی دوسری قسط کی ادائیگی کے ثبوت کے ساتھ اقرار نامے کی ایک کاپی30نومبر تک فراہم کی جائے گی ان صورتوں میں جہاں ادائیگی دو قسطوں میں کی گئی ہو۔مقررہ وقت میں ریٹرن فائل کرنے میں ناکامی یا ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اس شخص سے 100روپے یا ٹیکس کے ایک فیصد کے مطابق جرمانہ عائد کیا جائے گیا۔زیادہ سے زیادہ جرمانہ ایک ہزارروپے سے زیادہ نہیں ہوگا۔ نوٹیفیکشن کے مطابق خالی زمینیں، جو کسی ڈھانچے عمارت سے منسلک نہیں ہیں ، اگر اس علاقے میں ماسٹر پلان نافذ ہے، جس کے تحت ایسی خالی اراضی پر کسی بھی تعمیر کی اجازت نہیں دی گئی ہے یا اگر ماہانہ فصلوں کے سروے کے مطابق زرعی استعمال میں لایا گیا ہے‘کے ضمن میں کوئی ٹیکس نہ لگانے نیز میونسپلٹی کی تمام جائیدادیں اور تمام عبادت گاہیں بشمول مندر، مسجد، گرودوارہ، گرجا گھر، زیارت وغیرہ اور شمشان اور تدفین کی جگہوں کو بھی اس ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ حکومت ہند اور جموں و کشمیر انتظامیہ کی ملکیت تمام جائیدادوں کو پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ کیا جائے گا۔ تاہم قابل ٹیکس سالانہ قیمت کے تین فیصد کی شرح سے سروس چارج ایسی جائیدادوں کے سلسلے میں میونسپلٹی کو قابل ادائیگی ہوگا۔تفصیلات کے مطابق صفر سے 20 برس پرانی جائیدادوں پر ایک فیصد،20سے 30 سال پرانی جائیدادوں پر صفر اعشاریہ نو ےفیصد،تیس سے چالیس سال پرانی پر صفر اعشاریہ اسی فیصد،چالیس سے پچاس برس پرانی پر صفر اعشاریہ ستر فیصد،پچاس سے ساٹھ سال پرانی پر صفر اعشاریہ ساٹھ فیصد،اور ساٹھ برس سے پرانی جائیدادوں کےلئے صفر اعشاریہ پچاس فیصد کے حساب سے ٹیکس لگے گا۔ اس کے علاوہ رہائشی مکانات / اپارٹمنٹس جن کا حجم1000 مربع فٹ تک ہو پر صفر فیصد، ہزارسے اوپر پندرہ سو فٹ تک صفر اعشاریہ 75فیصد ، پندرہ سو سے اوپر دو ہزار فٹ تک ایک اعشاریہ پچاس فیصد، دو ہزار سے اوپرپچیس سو فٹ تک ایک اعشاریہ 75 فیصد جبکہ پچیس سو فٹ سے اوپر پانچ ہزار فٹ تک دو اعشاریہ پچاس فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔

جائیداد پر ٹیکس لگانے کے فیصلے کا جہاں تک تعلق ہے تو 2019 میں جب جموں کشمیر کو تقسیم کرکے مرکزی زیر انتظام علاقے میں تبدیل کردیا گیا ‘کے بعد ہی اس ضمن میں باتیں اور اعلانات ہونے لگے تھے لیکن اسوقت خود بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی لیڈران نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی تھی جس کے بعد اس فیصلے کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔21 فروری2023 سے قبل26 جنوری کے روز بھی اخبارات اور نیوز پورٹلس پر ایک عدد خبر شائع ہوئی جس میں اس ضمن میں ہونے والے اقدامات کی جانب اشارے واضح تھے۔جیسے کہ پہلے ہی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اس اقدام کے بارے میںکئی سال سے زیادہ کی قیاس آرائیوں کے بعد آیا ہے، اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ان سیاسی جماعتوں میں شامل تھی جنہوں نے اُس وقت اس پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ماضی میں، جموں و کشمیر انتظامیہ کو مرکزی وزارت داخلہ نے اکتوبر 2020میں میونسپل کارپوریشنوں، میونسپل کو نسلوں اور میونسپل کمیٹیوں کے ذریعے یونین ٹیریٹری میں پراپرٹیز، جموں اور کشمیر کی تنظیم نو ریاست کے قوانین کی موافقت ) آرڈر ، 2020کی منظوری کے ساتھ ، جموں اور کشمیر میونسپل ایکٹ 2000اور جموں اور کشمیر میونسپل کارپوریشن ایکٹ2000میں ترمیم کا اختیار دیا تھا۔ سابقہ قانون سازیہ کے پاس کردہ قوانین میں ریاست جموں و کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کی دفعات بھی شامل تھیں۔ ایم این اے نے پہلے متعلقہ ایکٹ کی دفعہ72سے 80اور اب سیکشن72کو تبدیل کیا ہے۔ حکم نامہ کے مطابق، پراپرٹی ٹیکس زمین اور عمارت یا خالی اراضی یادونوں کی سالانہ قیمت کے15فیصد سے زیادہ نہ ہو،لگانے کی اجازت دی تھی۔

پراپرٹی ٹیکس لگائے جانے کے فیصلے نے جہاں عوام الناس کو خاصی پریشانی میں ڈال دیا ہے وہیں پر مقامی سیاسی جماعتوں اور خود میونسپلٹی نمائندگان بھی اس فیصلے کی بھرپور مخالفت کررہے ہیں۔ ایک مقتدر نیوز پورٹل کے مضمون نے’ ’کچھ کےلئے آمرانہ اور دوسروں کےلئے ضرورت: جموں و کشمیر نئے پراپرٹی ٹیکس سے دوچار‘‘ کے زیرعنوان مضمون میں لکھا کہ’’اپوزیشن نے اس ٹیکس پر تنقید کی ہے، اور سری نگر میونسپل کارپوریشن کے اراکین نے بھی اس اقدام پر تنقید کی ہے جبکہ مقامی ٹیکس اور معیشت کے ماہرین اس اقدام کی میرٹ پر منقسم نظر آتے ہیں۔‘‘

پراپرٹی ٹیکس لگائے جانے کے فیصلے نے جہاں عوام الناس کو خاصی پریشانی میں ڈال دیا ہے وہیں پر مقامی سیاسی جماعتوں اور خود میونسپلٹی نمائندگان بھی اس فیصلے کی بھرپور مخالفت کررہے ہیں

جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے پراپرٹی ٹیکس نوٹیفکیشن کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔نیشنل کانفرنس جموں کشمیر کے سربراہ ،سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ پارلیمنٹ ممبر ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی اس نئے ٹیکس قانون سے خاصے مضطرب نظر آئے ۔اپنے سخت بیان میں موصوف کا کہنا تھا کہ ایل جی انتظامیہ یومیہ بنیاد پر نئے نئے حکم نامے جاری کر رہی ہے، اس کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا، غلام قوم کیا کر سکتی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اور جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ جموں و کشمیر کے عوام مجوزہ پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگر تمام ٹیکس کیوں ادا کریں۔ عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ مجوزہ پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگر تمام ٹیکس کیوں ادا کریں جبکہ فیصلہ سازی اور حکومت میں انکا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم خاموش رہیں گے اور راج بھون کے تمام غیر منصفانہ فیصلوں پر خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ ادھر نیشنل کانفرنس نے ایک بیان میں جموں و کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ سے متعلق نوٹیفکیشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن ریاستی جبر کی علامت ہے۔پارٹی کے ریاستی ترجمان عمران نبی ڈار نے پراپرٹی ٹیکس سے متعلق نوٹیفکیشن پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر کے عوام5اگست2019کو خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد غیر معینہ مدت کے لاک ڈائون اور اسکے بعد کورونا لاک ڈائون سے ہونے والے بھاری نقصانات کی وجہ سے معاشی طور پر تباہ ہو چکے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام پراپرٹی ٹیکس کابوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں اور ان فیصلوں سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ عمر عبداللہ نے اس فیصلے کو عوام دشمن اور سنگین ناانصافی قرار دیتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس طرح کے فیصلوں کو جموں و کشمیر میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کیلئے چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس کا نفاذ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لوگوں کو غریب کرنےکے بی جے پی کے بڑے ایجنڈے کا حصہ ہے۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ سرکار کا اصل مقصد جموں و کشمیر کے لوگوں کو اتنا غریب بتاناہے کہ وہ کسی چیز کا مطالبہ ہی نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہاکہ پراپرٹی ٹیکس بی جے پی کے بڑے ایجنڈے کا ایک حصہ ہے تاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کوغریب سے غریب تر بنایا جاسکے۔ان کے مطابق ملک میں کئے جانے والے اکانومی اور ڈیلوپمنٹ انڈیکس سروے کے مطابق جموں و کشمیر دیگر ریاستوں کے مقابلے میں معاشی طور پر کافی مضبوط ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھاجپااب جموں و کشمیر کو اقتصادی طور پر بد حال کرنے کی سازشیں رچارہی ہیں تاکہ یہاں کے لوگوں کو ہر سطح پر مفلوک الحال بنایا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیابھر میں آئے روز آفاقی سماوی کے خبریں گردش کرتی ہیں لیکن کشمیر میں یومیہ عوام مخالف احکامات جاری کئے جاتے ہیں۔محبوبہ مفتی نے مزید بتایا کہ سرینگر اور کشمیر کے دیگر قصبوں میں ایک ہی مکان میں چارچار کنبے رہتے ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے کے لئے پیسےنہیں ہیں تو پراپرٹی ٹیکس کیسے اورکیونکر اداکریں گے۔سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے میئر جنید عظیم متونے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ میونسپل کمیٹیوں سے مشاورت کے بغیر لیا گیا ہے۔جے اینڈ کے میں پراپرٹی ٹیکس کا نفاذ ستم ظریفی سے میونسپل بااختیاریت کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس پر نہ تو غور کیا گیا ہے اور نہ ہی منتخب یو ایل بی کی طرف سے اس کی منظوری دی گئی ہے۔ جب کہ ایس ایم سی اس صوابدیدی اقدام کا مقابلہ کرنے کے طریقے تلاش کرے گا، انہوں نے ٹویٹ کیا میں اس آرڈرکو واپس لینے کے لیے معزز ایل جی کو خط لکھ رہا ہوں۔ڈپٹی میئر پرویز احمد قادری نے ٹویٹ کیا کہ لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ہم اس حکم کے آنے سے پہلے ہی اسے مسترد کر رہے ہیں۔ اسے کارپوریٹروں کی رضامندی حاصل نہیں ہوگی اس لئے لوگوں کو گھبرانا نہیں چاہیے۔سی پی آئی (ایم) کی سنٹرل کمیٹی کے رکن اور سابق ایم ایل اے ایم وائی تاریگامی نے فیصلہ کومن مانی اور غیر جمہوری قرار دیا۔ایک نیوز پورٹل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قصبوں اور شہروں کو اس کا فیصلہ کرنا ہے، مرکز کو نہیں، جیسا کہ74ویں آئینی ترمیم کے ذریعے لازمی قرار دیا گیا ہے۔یہ نوٹیفکیشن آئینی مینڈیٹ کے خلاف ہے۔تاریگامی نے مزید کہا کہ تین سال کی تالہ بندی کی مدت بھی من مانی ہے۔شہروں کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیے کہ وہ کب اپنی اقدار کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور کوئی خاص لاکنگ پیریڈ نہیں ہونا چاہیے۔اس فیصلے پر جموں کی سیاسی جماعتوں نے بھی تنقید کی، جنہوں نے اسے غیر منطقی قرار دیا۔ سابق وزیر چودھری لال سنگھ کی ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن پارٹی نے کہا کہ ’’بیوروکریٹک گٹھ جوڑ‘‘ کے اس طرح کے احکامات سے صرف لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ہم ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ہیں اور حکومت کو جان لینا چاہیے کہ ہم ایک نازک موڑ سے گزر رہے ہیں جہاں تمام تاجر، تاجر اور مزدور پہلے ہی معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہیں۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ہری دت نےمقامی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ حکم بغیر سوچے سمجھے پاس کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر کانگریس کے صدر وقار رسول وانی نے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بی جے پی کا امرت کال اور انتظامیہ کا نیا جموں کشمیر ہے۔انہوں نے ٹویٹ کیا، میں نے اپنے لوگوں پر پراپرٹی ٹیکس لگانے کی سختی سے مذمت کی ہےجو مہنگائی کی بلند شرح، بے روزگاری کی بے پناہ شرح اور صفر کاروباری سرگرمی کی وجہ سے اپنے گھر نہیں چلا پا رہے ہیں۔

سخت تنقید کی زد میں آنے کے بعد ریاستی انتظامیہ نےایک وضاحت جاری کی اور کہا کہ ’’حقیقت میں غلط اور گمراہ کن معلومات ‘‘سے پیدا ہونے والے کنفیوژن کو دور کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔یہ ٹیکس بلدیات کے ذریعہ اپنے وسائل کو بڑھانے کے لئے دنیا بھر میں لگایا جاتا ہے اور جموں کشمیرملک میں واحد مرکزی زیر انتظام علاقہ ہے جو اسے نافذ نہیں کررہا ہے۔خراب مالیات کی وجہ سے، یو ٹی بھر کے فلاحی محکمے اپنی بھرپور ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر تھے۔ دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کے آپریشنل اخراجات کا پندرہ فیصدسے بھی کم ہے۔ وضاحت کے اندر سوال کیا گیا کہ ’’ترقی کے لیے فنڈز کہاںسے دستیاب ہونگے‘‘؟ انتظامیہ نے مزید کہا کہ یہ ٹیکس ’’یو ایل بیز کو مضبوط بنانے اور عام لوگوں کی بہتری کے لیے شہری ترقی کو تیز کرنے کے لیے لگایا جا رہا ہے۔یہ نئی پراپرٹی ٹیکس پالیسی میونسپل اداروں کو رہائشیوں پر کم از کم ٹیکس کے اثرات کے ساتھ بہتر میونسپل سروسز کے لیے آمدنی پیدا کرنے میں مدد کرے گی‘‘۔اس بھرپور سرکاری وضاحت کے باوجود، جے اینڈ کے پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے ٹویٹ کیاکہ انتظامیہ پراپرٹی ٹیکس کے بارے میں تفصیلی وضاحت لے کر آئی ہے۔’’ میں اب بھی کہتا ہوں کہ نہیں۔ یہ ٹیکس لگانے کا وقت نہیں ہے۔2019 کے بعد ایک سال ضائع ہونے ، کوویڈ میں ضائع ہونے والے دو سالوں کے بعد ، پراپرٹی ٹیکس ہر اس پتھر کو گھمانے کے لیے پُرعزم حربہ لگتا ہے جسےیہاں کے لوگوں کی معاشی موت کو یقینی بنانے کے لیے موڑا جا سکتا ہے۔دنیا بھر میںحکومتوں نے بیمار معیشتوں کوکھڑا کرنےکے لیےاربوں روپے خرچ کیے ہیں۔لیکن یہاں اُلٹا ہورہا ہے۔ میں محو حیرت ہوں۔‘‘

بہرحال بقول فاروق عبداللہ روزانہ کی بنیاد پر جاری نت نئے احکامات جو کبھی لیز جائیدادوں ،کبھی سرکاری زمینوں، کبھی جنگلاتی زمینوںاور حالیہ پراپرٹی ٹیکس وغیرہ کی صورت میں جاری ہوتے رہتے ہیں ‘نے جموںو کشمیر کے لوگوں کا فشار خون نظام یقیناً متاثر کردیا ہے۔ ہر روز لوگ نیند سے بیدار ہوجاتے ہیں اور کوئی نہ کوئی نیا حکم نامہ ان کے سامنے ہوتا ہے جس سے دلوں کی دھڑکنیں تیز اور خون کا بہائو متاثر ہوجاتا ہے۔ ایسے میں بقول سجاد غنی لون کے ’صرف حیرت زدگی کا ہی اظہارہے جسے ظاہر کیا جاسکتا ہے ۔‘

’’ روزانہ کی بنیاد پر جاری نت نئے احکامات جو کبھی لیز جائیدادوں ،کبھی سرکاری زمینوں، کبھی جنگلاتی زمینوںاور حالیہ پراپرٹی ٹیکس وغیرہ کی صورت میں جاری ہوتے رہتے ہیں ‘نے جموںو کشمیر کے لوگوں کا فشار خون نظام یقیناً متاثر کردیا ہے۔ ہر روز لوگ نیند سے بیدار ہوجاتے ہیں اور کوئی نہ کوئی نیا حکم نامہ ان کے سامنے ہوتا ہے جس سے دلوں کی دھڑکنیں تیز اور خون کا بہائو متاثر ہوجاتا ہے‘‘

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

دنیاوی خُدا (افسانہ)

Next Post

عالمی عدالت انصاف جارحیت پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے: عرب لیگ

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

مہاراشٹر میں طیارہ حادثہ: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سمیت طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک

مہاراشٹر میں طیارہ حادثہ: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سمیت طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک

28/01/2026
جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی کی مدت 24 فروری 2026 کو ختم ہوگی: حکومت

جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی کی مدت 24 فروری 2026 کو ختم ہوگی: حکومت

27/01/2026
کشمیر میں برف باری کے دوران تاخیر سے برف ہٹانے پر پی ڈبلیو ڈی کی کارروائی، متعدد انجینئر معطل، غفلت برتنے پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت

کشمیر میں برف باری کے دوران تاخیر سے برف ہٹانے پر پی ڈبلیو ڈی کی کارروائی، متعدد انجینئر معطل، غفلت برتنے پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت

27/01/2026
یہ مشترکہ خوشحالی کا خاکہ ہے، ہندوستان-یورپی یونین معاہدے پر پی ایم مودی کا بیان

یہ مشترکہ خوشحالی کا خاکہ ہے، ہندوستان-یورپی یونین معاہدے پر پی ایم مودی کا بیان

27/01/2026
اودھم پور سڑک حادثہ: سی آر پی ایف جوان سمیت 4 افراد ہلاک، متعدد زخمی

اودھم پور سڑک حادثہ: سی آر پی ایف جوان سمیت 4 افراد ہلاک، متعدد زخمی

27/01/2026
محبوبہ مفتی کا اینٹی لینڈ ایویکشن بل اسمبلی  میں پیش کرانے کا اعلان

محبوبہ مفتی کی بابا بلھے شاہ کے مزار کی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت، بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا

27/01/2026
Next Post
عالمی عدالت انصاف جارحیت پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے: عرب لیگ

عالمی عدالت انصاف جارحیت پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے: عرب لیگ

مصر نے موٹاپے سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کے حج پر پابندی لگا دی

مصر نے موٹاپے سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کے حج پر پابندی لگا دی

سرکاری پالیسیوں کی تنقید کرنے پر سرکاری استاد معطل

سرکاری پالیسیوں کی تنقید کرنے پر سرکاری استاد معطل

پٹن چندر ہامہ میں تندوئے کو زندہ پکڑا گیا

پٹن چندر ہامہ میں تندوئے کو زندہ پکڑا گیا

اقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر بھارت کی پاک پر تنقید

اقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر بھارت کی پاک پر تنقید

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »