امت نیوز ڈیسک //
سرینگر (نیوز ڈیسک):بھارت نے ملک کے کچھ حصوں میں رام نومی کے جلوسوں کے دوران دو گروپوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں پر آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کے بیان کی مذمت کی ہے۔ منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرس کے ترجمان اے ارندم بگچی نے اس حوالہ سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا: ’’ہم آج او آئی سی سیکریٹریٹ کی طرف سے بھارت کے حوالے سے جاری کردہ بیان کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ ان کی فرقہ وارانہ ذہنیت اور بھارت مخالف ایجنڈے کی ایک اور مثال ہے۔ OIC بھارت مخالف نظریہ اور سوچ کے حاملین کے دباؤ اور اثر و رسوخ میں آکر اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘‘او آئی سی کے بیان میں رام نومی کے جلوسوں کے دوران بھارت کی متعدد ریاستوں میں ’’تشدد‘‘ اور ’’مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے والی توڑ پھوڑ‘‘ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جس میں 31 مارچ کو بہار شریف میں انتہا پسند ہندو ہجوم نے ایک مدرسے اور اس کی لائبریری کو نذر آتش کرنے کا واقعہ بھی شامل ہے۔
او آئی سی نے ان فرقہ وارانہ فسادات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا تھا: ’’او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ تشدد اور توڑ پھوڑ کی ایسی اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے، جو کہ بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور مسلم کمیونٹی کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا واضح مظہر ہے۔ او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ نے بھارتی حکام سے اشتعال انگیزی کرنے والوں اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اور ملک میں مسلمانوں کے تحفظ، حقوق اور وقار کو یقینی بنایا جائے۔‘‘




