امت نیوز ڈیسک //
موگا: خالصتان کے حامی اور مفرور امرت پال سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پنجاب پولیس نے اسے موگا گوردوارہ سے گرفتار کیا ہے۔ یہ اطلاع پنجاب پولیس کی جانب سے ٹویٹ کر کے دی گئی ہے۔ وہ کئی دنوں سے مفرور تھے۔ پہلے بتایا جارہا تھا کہ امرت پال نے پنجاب کی موگا پولیس کے سامنے خودسپردگی کی ہے تاہم بعد میں پنجاب پولیس نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ امرت پال کو رات دیر گئے موگا پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ کہا جا رہا تھا کہ وہ بیساکھی کے موقع پر خودسپردگی کر دیں گے، لیکن انہوں نے خودسپردگی نہیں کی۔ پنجاب پولیس نے نیپال بارڈر تک ملک بھر میں آپریشن کیا۔ پنجاب پولیس کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔ اس سے قبل پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ نے بھی پنجاب پولیس کو پھٹکار لگائی تھی کہ پولیس امرت پال تک کیسے نہیں پہنچ سکی جب اس کے ساتھی پکڑے گئے۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ امرت پال نے خودسپردگی کردی ہے۔ امرت پال گزشتہ کئی دنوں سے مفرور تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کئی بار ویڈیوز بھی جاری کیں۔
اس سے قبل پنجاب پولیس نے امرت پال کے قریبی ساتھی پپل پریت کو امرتسر سے گرفتار کیا تھا۔ اس نے پنجاب پولیس کو بیان دیا تھا کہ اسے امرت پال کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ امرت پال خودسپردگی کریں گے یا نہیں۔ پپل پریت نے واضح کیا کہ ہم 28 مارچ کی رات ہی الگ ہوگئے تھے۔ پپل پریت کی گرفتاری کے بعد اس کے امکانات بڑھ گئے تھے کہ امرت پال بھی زیادہ دیر نہیں ٹھہرے گا اور خودسپردگی کر دے گا۔
بتادیں کہ امرت پال پہلی بار 23 فروری کو سرخیوں میں آئے تھے۔ انہوں نے اپنے قریبی دوست کو چھڑانے کے لیے ہزاروں حامیوں کے ساتھ اجنالہ تھانے پر مبینہ حملہ کیا۔ اس حملے میں 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے کئی ٹی وی چینلوں کو دیئے گئے انٹرویو میں الگ خالصتان کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے قبل امرت پال کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے پولس نے ان پر این ایس اے لگا دیا تھا۔ این ایس اے کا مطلب ہے قومی سلامتی ایکٹ۔ یہ بہت سخت قانون سمجھا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت پولیس مشتبہ شخص کو 12 ماہ تک اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔ حراست میں رکھنے کے لیے صرف یہ بتانا ہوگا کہ اس شخص کو جیل میں رکھا گیا ہے۔










