امت نیوز ڈیسک //
جموں، 20 جنوری: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیر پنجال اور چناب ویلی کو ڈویژنل درجہ دینے کے دیرینہ مطالبے پر اپنا واضح اور غیر مبہم موقف سامنے لائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی سیاسی بیان بازی کا نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی ضرورت کا ہے۔
جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیر پنجال اور چناب ویلی کے لیے ڈویژنل درجہ کا مطالبہ بالکل جائز ہے، کیونکہ ان علاقوں کا دشوار گزار جغرافیہ، نازک ماحولیاتی صورتحال، دور دراز بستیاں اور بنیادی سہولیات تک محدود رسائی سنگین انتظامی مسائل کو جنم دیتی ہے۔
انہوں نے کہا،“پیر پنجال اور چناب ویلی طویل عرصے سے انتظامی نظراندازی کا شکار ہیں۔ ان علاقوں کی جغرافیائی ساخت، ماحولیاتی خطرات اور فیصلہ سازی کے مراکز سے دوری اس بات کی متقاضی ہے کہ انہیں فوری طور پر ڈویژنل درجہ دیا جائے تاکہ حکمرانی عوام کی دہلیز تک پہنچ سکے، خاص طور پر سرحدی اور پہاڑی علاقوں میں۔”
محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا کہ اس معاملے پر پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بنانے میں نیشنل کانفرنس اور بی جے پی ایک ہی صفحے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ جن جماعتوں نے ماضی میں سیاسی مفاد کے لیے علاقوں کی تقسیم کی، وہ آج پسماندہ خطوں کی آواز اٹھانے پر سوال اٹھا رہی ہیں۔
ڈکسن پلان کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کو یاد دلایا کہ شیخ عبداللہ کی مبینہ حمایتِ ڈکسن پلان کے نتیجے میں انہیں 1953 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج پیر پنجال اور چناب ویلی کے جائز مطالبات کو بھی تقسیم پسند قرار دیا جا رہا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے حد بندی (ڈیلِمیٹیشن) کے نام پر پیر پنجال اور بالواسطہ طور پر چناب ویلی کے سیاسی اور انتظامی مفادات کو کمزور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے عوامی فلاح کے بجائے تنگ سیاسی مفادات کے تحت کیے گئے۔
انہوں نے زور دیا کہ چونکہ جموں و کشمیر ایک سرحدی خطہ ہے، اس لیے پیر پنجال اور چناب ویلی جیسے علاقوں کو ماحولیاتی خطرات، اسٹریٹجک حساسیت اور بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے دوہرے چیلنجز کا سامنا ہے، جن کے لیے خصوصی انتظامی توجہ ضروری ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد حکومتوں کو عوام کے حقوق اور وقار کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا،“حقیقی شکایات کے ازالے کے بجائے پی ڈی پی کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ ان لوگوں کی آواز بن رہی ہے جو دہائیوں سے نظرانداز رہے ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ پیر پنجال اور چناب ویلی کے لیے ڈویژنل درجہ کا مطالبہ انصاف، بہتر حکمرانی اور مساوی مواقع سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ سیاست سے، اور پی ڈی پی دونوں خطوں کے عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔










