امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے علیحدگی پسند لیڈر محمد یاسین ملک کی گواہوں سے جرح کے لیے ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت میں اجمل قصاب کو بھی منصفانہ ٹرائل کا حق دیا گیا تھا۔‘‘
یاسین ملک، جو اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں، نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں گواہوں سے براہ راست جرح کرنے کے لیے ذاتی طور پر پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔ واضح رہے کہ یاسین ملک 1989 میں چار بھارتی فضائیہ اہلکاروں کے قتل اور اُس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی دختر رابیعہ سعید کے اغوا کے معاملات میں پر کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے۔ یاسین ملک کو ملی ٹینسی کی مالی معاونت کے ایک الگ کیس میں پہلے ہی عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ جبکہ این آئی اے نے کورٹ نے یاسین ملک کو پھانسی دئے جانے کی بھی سفارش کی ہے۔
جسٹس ابھیہ ایس اوکا اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بینچ نے تشار مہتا سے سوال کیا کہ ’’کسی ملزم کو گواہوں سے جرح کرنے کا حق کیسے محدود کیا جا سکتا ہے؟‘‘ جس پر سالیسٹر جنرل نے سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’یاسین ملک کو ذاتی طور پر عدالت لانے میں خطرات ہیں اور یہ کہ جیل میں ہی عدالتی کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘‘
عدالت کی تجاویز
جسٹس اوکا نے کہا کہ گواہوں سے جرح کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو مؤثر طریقہ نہیں سمجھا جا سکتا، خاص طور پر اگر رابطہ ناقص ہو۔ تاہم، سالیسٹر جنرل نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ ممکن ہے۔ عدالت نے تجویز دی کہ اگر ملک عدالت میں پیش ہونے پر اصرار کرتے ہیں تو جیل میں ہی ایک عارضی عدالت قائم کی جا سکتی ہے۔ تشار مہتا نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ اس مقصد کے لیے دہلی میں اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
سالیسٹر جنرل نے کہا کہ ملی ٹینسی کے مقدمات میں سیکیورٹی اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ ماضی میں ایسے گواہ قتل کیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ مقدمے میں شامل تمام ملزمان کو فریق بنایا جائے اور نئی درخواست دائر کی جائے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی اگلی سماعت آئندہ جمعرات کو مقرر کی ہے اور سی بی آئی کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام گواہوں اور ملزمان کے بارے میں معلومات فراہم کرے تاکہ مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔








