امت نیوز ڈیسک //
مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے اسمبلی انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ مہاراشٹر میں جہاں این ڈی اے اتحاد یعنی مہایوتی نے حکومت سازی کے لیے ضروری واضح اکثریت حاصل کر لی ہے، وہیں جھارکھنڈ میں انڈیا اتحاد نے حکومت سازی کے لیے ضروری نمبر حاصل کر لیا ہے۔ مہاراشٹر میں جہاں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بنی ہے، وہیں جھارکھنڈ میں جے ایم ایم نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں ہی پارٹیاں تن تنہا اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوئی ہیں۔ یعنی دونوں ہی جگہ فاتح اتحاد مضبوطی کے ساتھ حکومت سازی کے لیے آگے بڑھے گا۔
مہاراشٹر کی 288 اسمبلی سیٹوں میں سے بی جے پی نے 132 سیٹوں پر قبضہ کیا ہے۔ اس کی ساتھی پارٹیوں شیوسینا (ایکناتھ شندے گروپ) نے 57 سیٹوں پر، این سی پی (اجیت پوار گروپ) نے 41 سیٹوں پر اور دیگر پارٹیوں نے 4 سیٹوں پر فتحیابی حاصل کی ہے۔ انڈیا اتحاد یعنی ایم وی اے کی بات کریں تو شیوسینا یو بی ٹی نے 20 سیٹوں پر، کانگریس نے 16 سیٹوں پر، این سی پی-ایس پی نے 10 سیٹوں پر اور دیگر پارٹیوں نے 2 سیٹوں پر فتح کا پرچم لہرایا۔ ان دونوں اتحاد سے الگ 6 امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے۔
جھارکھنڈ کی بات کی جائے تو یہاں کی 81 اسمبلی سیٹوں کا جو نتیجہ سامنے آیا ہے اس میں جے ایم ایم نے سب سے زیادہ 34 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کی اتحادی پارٹیوں کانگریس نے 16 سیٹوں پر، آر جے ڈی نے 4 سیٹوں پر اور سی پی آئی (ایم ایل) نے 2 سیٹوں پر قبضہ کیا ہے۔ اس طرح انڈیا اتحاد کی سیٹوں کی تعداد 56 ہو جاتی ہے جو کہ حکومت سازی کے لیے ضروری نمبر 42 سے بہت زیادہ ہے۔ این ڈی اے کی بات کی جائے تو بی جے پی نے 21 سیٹوں پر، ایل جے پی (رام ولاس) نے 1 سیٹ پر، جنتا دل یو نے 1 سیٹ پر اور آجسو نے 1 سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ یعنی این ڈی اے اتحاد کو مجموعی طور پر 24 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ ان دونوں اتحاد سے الگ صرف 1 امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے جس کا تعلق جے ایل کے ایم سے ہے۔
کیرالہ کی وائناڈ پارلیمانی سیٹ پر کانگریس امیدوار پرینکا گاندھی نے ریکارڈ جیت حاصل کی ہے۔ انھوں نے 4.11 لاکھ ووٹوں کے فرق سے اپنے قریبی حریف کو شکست فاش دی۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ دیے گئے ڈاٹا کے مطابق پرینکا گاندھی نے 6 لاکھ 22 ہزار 338 ووٹ حاصل کیے، جبکہ دوسرے مقام پر رہنے والے سی پی آئی امیدوار ستین موکیری کو 2 لاکھ 11 ہزار 407 ووٹ حاصل ہوئے۔ یعنی پرینکا گاندھی نے 4 لاکھ 10 ہزار 931 ووٹوں سے جیت حاصل کر لی ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی امیدوار نویا ہری داس تیسرے مقام پر رہیں جنھیں 109939 ووٹ ملے۔
ہمیں جھٹکا لگا ہے، لیکن یہ جھٹکا دیا گیا ہے، یہ سازش ہے: کانگریس
مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں ایم وی اے کی خراب کارکردگی پر کانگریس نے حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے آج انتخابی نتائج کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کیا جس میں مہاراشٹر کے مینڈیٹ کو ’عجیب‘ اور ’ناقابل یقین‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں جھٹکا ملا ہے، لیکن یہ جھٹکا دیا گیا ہے۔ ہمیں شکست دینے کے لیے کہیں کوئی سازش کی گئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی جئے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس اپنے ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹنے والی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو سماجی ایشوز ہم نے اٹھائے ہیں، وہ اٹھاتے رہیں گے۔ چاہے سماجی ایشوز ہوں، موڈانی کا مسئلہ ہو، ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ ہو، آئین کے تحفظ کا معاملہ ہے، ہم یہ ان ایجنٹوں پر لوک سبھا انتخاب کے دوران بھی قائم تھے، اور اب بھی قائم ہیں۔ ہم اپنا ایجنڈا نہیں بدلنے والے۔‘‘
مہاراشٹر میں جہاں مہایوتی نے حیرت انگیز طریقے سے 288 اسمبلی سیٹوں میں 230 سے زائد سیٹوں پر برتری حاصل کر لی ہے، وہیں جھارکھنڈ میں انڈیا اتحاد نے بھی 81 اسمبلی سیٹوں میں 50 سے زائد سیٹوں پر سبقت حاصل کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف مہاراشٹر میں مہایوتی اتحاد کے لیڈران و کارکنان جشن میں ڈوبے ہوئے ہیں، وہیں دوسری طرف جھارکھنڈ میں انڈیا بلاک کے لیڈران و امیدوار جشن میں پٹاخے پھوڑ رہے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔









