امت نیوز ڈیسک //
جموں: ملک کا 77 واں یوم جمہوریہ ملک کے دیگر خطوں کے ساتھ جموں و کشمیر میں بھی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سرمائی دارالحکومت جموں میں مرکزی تقریب میں ترنگا لہرایا۔ اسی کے ساتھ جموں و کشمیر کے تمام ضلع ہیڈکوارٹرز میں سخت حفاظتی انتظامات کے بیچ جشن جمہوریہ کی تقریبات منعقد کی گئیں۔
جموں کے مولانا آزاد اسٹیڈیم میں منعقدہ مرکزی تقریب میں یو ٹی کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت متعدد ارکان اسمبلی، فوج، سی آر پی ایف، پولیس کے افسران اور سول اہلکار نے شرکت کی۔
تقریب کے دوران ایک آرمی ہیلی کاپٹر نے اوپر سے اڑان بھری اور تقریب کے آغاز پر پھول برسائے، جس سے بڑے مجمع کی خوشی دوبالا ہو گئی۔ ریاستی سطح کی تقریب میں شرکت کرنے سے پہلے لیفٹیننٹ گورنر نے جنگی یادگار بلیدان ستمبھ پر شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
بعد ازاں ایل جی منوج سنہا نے مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں میں مرکزی سرکاری تقریب میں ترنگا لہرایا اور پریڈ کا معائنہ کرتے ہوئے مارچ پاسٹ کی سلامی لی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بھارتی فوج،نیم فوجی دستوں اور جموں و کشمیر پولیس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ملک کی یکجہتی، سالمیت اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے پہلگام حملے کے بعد شروع کی گئی آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کی قومی سلامتی پالیسی میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جس کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ دہشت گردی کے کسی بھی عمل کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔
منوج سنہا نے کہا کہ آپریشن سندور کے ذریعے ملی ٹنسی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور بھارت کے دفاعِ خودمختاری کے عزم کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن جاری ہے اور ہر دشمنانہ سرگرمی پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جب کہ غیر عسکری اقدامات کے تحت سندھ طاس معاہدہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے پہلگام حملے میں جان بحق ہونے والے شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور حملے میں ملوث ملی ٹینٹوں کے خلاف کارروائی پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی۔ انہوں نے نوگام میں پیش آنے والے حادثاتی دھماکے میں جان گنوانے والے اہلکاروں کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کا اظہار کیا۔
ترقیاتی محاذ پر بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت موجودہ قیمتوں پر 11 فیصد شرحِ نمو حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے اور مالی سال 2024-25 کے لیے مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کا تخمینہ 2.62 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
انہوں نے سیاحت،بنیادی ڈھانچے،سڑک و ریل رابطے،بجلی،زراعت،تعلیم،صحت اور صنعت کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کا ذکر کیا۔
انہوں نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے مشن یووا میرٹ پر بھرتیوں،روزگار کے مواقع اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے اقدامات کو اجاگر کیا۔خواتین،قبائلی برادری،سماجی بہبود،ڈیجیٹل گورننس اور فلاحی اسکیموں کے حوالے سے بھی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی۔
وہیں وادی کشمیر میں یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب بخشی اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی اور نائب وزیر اعلی سریندر کمار چودھری نے بطور مہمان خصوصی اس کی صدارت کی۔
صبح کی سردی کا مقابلہ کرتے ہوئے، پولیس کے دستے، سی آر پی ایف، این سی سی اور اسکول کے بچوں نے مارچ پاسٹ میں حصہ لیا، نائب وزیر اعلی سریندر چودھری کو سلامی پیش کی۔ پریڈ کے بعد جموں و کشمیر کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے فنکاروں نے تقریب میں پرفارم کیا۔
جموں اور کشمیر بھر میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منانے کے لیے جہاں سیکورٹی اہلکاروں کو تعداد میں تعینات کیا گیا تھا، وہیں جموں شہر میں ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے کم چیک پوسٹس قائم کیے جانے کے باعث ماحول پر سکون تھا۔
ضلع ہیڈکوارٹرس سے موصولہ اطلاعات میں کہا گیا کہ یوم جمہوریہ کی تقریبات ہزاروں لوگوں کی تقریب میں شامل ہونے کے ساتھ پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوئیں۔
بی جے پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پی ڈی پی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر ڈویژن میں بھی اپنے اپنے پارٹی ہیڈکوارٹر پر قومی پرچم لہرایا۔





