امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں و کشمیر حکومت نے ہندوارہ گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) کے لیے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں زمین کی الاٹمنٹ کے معاملے پر تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے یہ بیان منگل کو اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران جاری کیا، جب کپوارہ کے متعدد اراکین اسمبلی، بشمول ایم ایل اے ہندوارہ سجاد غنی لون، نے اس معاملے کو اٹھایا۔
لون نے ہندوارہ میں میڈیکل کالج کی تعمیر کے لیے نئی جگہ کی نشاندہی میں تاخیر پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا: ’’میں نے اس میڈیکل کالج کے لیے جد و جہد کی اور یہاں تک کہ بی جے پی کے لیے کام کرنے کا الزام بھی برداشت کیا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ اس منصوبے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسے یہاں تعمیر نہیں ہونے دینا چاہتے۔‘‘
سکینہ ایتو نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’میں اب تک خاموش رہی، لیکن اب میں تحقیقات کا حکم دوں گی، کہ دریا کے قریب سیلاب زدہ علاقے میں زمین کیوں الاٹ کی گئی؟ اگر کوئی یہ ضمانت دے کہ یہاں کالج بننے کے بعد سیلاب سے متاثر نہیں ہوگا، تو حکومت کام جاری رکھے گی، ورنہ حکومت اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ یہ کسی مخصوص سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے ایوان کا مسئلہ ہے، اور یہ منصوبہ ہرگز رکاوٹ کا شکار نہیں ہوگا۔‘‘
واضح رہے کہ ہندوارہ میں گورنمنٹ میڈیکل کالج کا اعلان حکومتِ ہند نے جی ایم سی اُدھم پور کے ساتھ ہی کیا تھا تاکہ جموں و کشمیر میں طبی تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ دو کالج سابقہ یو پی اے حکومت کی جانب سے 2014 میں اعلان کردہ پانچ میڈیکل کالجوں کے علاوہ تھے۔ جی ایم سی اُدھم پور کی تعمیر مکمل ہونے کے قریب ہے، جبکہ جی ایم سی ہندوارہ کی تعمیر زمین کے تنازعے کے باعث رکی ہوئی ہے۔











