امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں و کشمیر حکومت نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، عارضی ملازمین اور کیجول لیبرز کی مستقلی کے لیے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری (وزیر اعلیٰ دفتر)، فائنانس سیکریٹری، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری اور سیکریٹری قانون شامل ہوں گے، جو چھ ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ اجلاس کے دوران اس کمیٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی یومیہ مزدوروں کی کل تعداد، مالیاتی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے بجٹ میں ان مزدوروں کیلئے باضابطہ پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کے بیان پر حکومتی بینچوں سے زوردار تالیاں بجائی گئیں۔
عمر عبداللہ نے سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2015 سے 2018 تک ہر بجٹ میں یہ مسئلہ شامل کیا گیا مگر عملی طور پر کچھ نہ ہوا۔ انہوں نے اعتراف کی: ’’ہم 2014 میں اس مسئلے کو حل کرنے کے قریب تھے، لیکن بدقسمتی سے سیلاب نے سب کچھ بہا دیا۔ میں مانتا ہوں کہ ہم نے کچھ نہیں کیا، اسی لیے 2014 کے انتخابات ہارے۔‘‘
یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین نے احتجاج کیا اور حکومت سے وضاحت طلب کی کہ مظاہرین پر لاٹھی چارج کیوں کیا گیا اور یومیہ مزدوروں کے لیے پالیسی کیوں نہیں بنائی جا رہی۔ اپوزیشن کے سخت رویے کے بعد بی جے پی کے اراکین نے واک آؤٹ کیا۔
وزیر اعلیٰ نے وضاحت دی کہ پولیس کے اقدامات حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہوتے، تاہم امید ہے کہ آئندہ مزدوروں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ انسانی مسئلہ ہے، مالیاتی نہیں، اور حکومت اسے سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر سرندر چودھری نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے پرعزم ہے اور اس پر جلد اقدامات کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سابقہ حکومتوں کی جانب سے عارضی ملازمین کے مسائل حل کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔









