امت نیوز ڈیسک //
جموں: سرحدی ضلع کٹھوعہ کے سنیال گاؤں کے جنگلات میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تیسرے دن بھی مڈبھیڑ جاری رہی۔ فورسز نے عسکریت پسندوں کے نشانات کا پتہ لگایا اور ان کے ٹھکانے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان برآمد کیا۔
دراصل اتوار کی شام تقریباً 6 بجے فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، تاہم کم روشنی کے باعث آپریشن روک دیا گیا تھا۔ پیر کی صبح دوبارہ سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ تلاشی کے دوران فورسز کو امریکہ میں تیار کردہ ایم 4 رائفل کی تین میگزین، تین بڑے پیکٹ میں رکھا گیا دھماکہ خیز مواد، ادویات، جوتے، بیگ اور کھانے پینے کا سامان ملا۔
انسداد عسکریت پسندی مخالف آپریشن آج تیسرے دن میں داخل ہو گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور مشتبہ عسکریت کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔ اس آپریشن میں نیشنل سیکیورٹی گارڈز (NSG) کمانڈوز، پیرا کمانڈوز، اسپیشل آپریشن گروپ (SOG) اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں شامل ہیں۔
تاکہ عسکریت پسندوں کے فرار ہونے کے تمام ممکنہ راستے بند کیے جا سکیں۔
سیکورٹی فورسز جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں۔ ڈرونز اور دیگر ہائی ٹیک آلات کی مدد سے علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
ڈی جی پی پولیس اور فوجی کمانڈرز خود موقع پر موجود ہیں اور آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔
ذرائع کے مطابق عسکریت پسند سرنگ کے ذریعے بھارت میں داخل ہوئے اور ڈرون کے ذریعے ان کے ہینڈلرز نے انہیں دھماکہ خیز مواد اور دیگر سامان پہنچایا۔ فورسز کے دباؤ کے باعث عسکریت پسند اپنا سامان چھوڑ کر جنگل میں کسی اور جگہ چھپ گئے۔ فورسز علاقے میں ان کی تلاش میں مصروف ہیں اور پورے خطے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔









