امت نیوز ڈیسک //
گھنٹوں تک گرما گرم بحث کے بعد وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پاس ہوگیا ہے ۔
بل کے حق میں 288 ووٹ جبکہ بل کے خلاف 232 ووٹ پڑے ہیں۔
وہیں آج راجیہ سبھا میں بل پر 8 گھنٹے کی بحث ہو گی۔
بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ ہر زمین ملک کی زمین ہے۔ یہ بل مسلم یا اسلام مخالف نہیں ہے۔ اس میں خواتین اور بچوں کے لئے بہت سے انتظامات کیے گئے ہیں۔ جہاں تک کلکٹر کو ذمہ داری دینے کا تعلق ہے تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ کلکٹر کا تعلق کسی پارٹی سے نہیں ہے۔
اپوزیشن پر نشانہ سادھتے ہوئے کرن رجیجو نے کہا کہ آپ ہم پر پولرائزیشن کی سیاست کا الزام لگاتے رہتے ہیں، کون کر رہا ہے؟ آپ آئین کی کاپی لے کر چلتے ہیں، ترنگا اور آئین کو پکڑنا اچھی بات ہے، لیکن پھر یہ کہنا کہ آپ کو آزادی چاہئے، یہ ٹھیک نہیں ہے، آپ کو آئین کی روح کے ساتھ رہنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ اس ملک میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ میں خود ایک اقلیتی طبقہ سے آتا ہوں، ملک میں چھ اقلیتی کمیونٹیز ہیں، سب سے چھوٹی اقلیت کمیونٹی پارسی ، آپ نے ان کے بارے میں کبھی نہیں سوچا، وزیراعظم مودی نے ان کیلئے اسکیم شروع کی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ان کی تعداد مزید کم نہ ہو۔ اقلیتیں دیگر مقامات پر اتنے ہی محفوظ ہیں، جتنے ہندوستان میں ہیں۔
اویسی نے پارلیمنٹ میں وقف بل کی کاپیاں پھاڑیں
ادھر اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے وقف بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری محسوس کرایا جائے۔ میں اس بل کو پھاڑ دوں گا۔ اویسی نے کہا کہ آپ کو خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں بہت فکر کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔ کاش آپ نے بلقیس بانو سے بھی ایسی ہی ہمدردی کا اظہار کیا ہوتا۔










