امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کشمیر میں ریل منصوبہ بندی کے لیے پائیدار اور عوام دوست پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی زمینوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور طویل عرصے سے نظرانداز کیے گئے علاقوں کو ریل رابطے میں ترجیح دی جائے۔
مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو کو لکھے گئے ایک مکتوب میں محبوبہ مفتی نے کشمیر وادی میں مجوزہ تین ریلوے منصوبوں کو فی الحال معطل رکھنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے لاکھوں زرعی خاندانوں کے لیے بڑی راحت قرار دیا، جن کے مطابق ان منصوبوں سے ان کے روزگار کو شدید خطرہ لاحق تھا۔
انہوں نے کہا کہ زراعت اور باغبانی کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور آبادی کے تقریباً دو تہائی حصے کا براہِ راست یا بالواسطہ انحصار انہی شعبوں پر ہے۔ محبوبہ مفتی نے نشاندہی کی کہ وادی میں قابلِ کاشت زمین مجموعی رقبے کا صرف ایک محدود حصہ ہے جو پہلے ہی شاہراہوں، بائی پاس اور رنگ روڈ جیسے منصوبوں کی وجہ سے خاصی کم ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ریلوے منصوبوں کو روکنے سے وقتی راحت ملی ہے، تاہم ان کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کسانوں میں شدید بے چینی پیدا کر رہی ہے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر کے بیشتر کسان چھوٹے زمین دار ہیں اور ان کے پاس آمدنی کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہے۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث تعلیم یافتہ نوجوان بھی بڑی حد تک زراعت پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، لہٰذا زرخیز زمینوں کا تحفظ وسیع تر عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔
انہوں نے وزارتِ ریلوے سے مطالبہ کیا کہ موجودہ روٹ کے مطابق ان منصوبوں کو منسوخ کیا جائے اور نئے سرے سے ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس سے زرعی زمین محفوظ رہ سکے۔ ان کے مطابق اس طرح تقریباً پندرہ لاکھ خاندانوں کے روزگار کا تحفظ ممکن ہو سکتا ہے اور ترقیاتی ضروریات بھی پوری کی جا سکتی ہیں۔
محبوبہ مفتی نے واضح کیا کہ کسان ریل رابطے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ انہوں نے پھلوں کی ترسیل کے لیے ایک مخصوص ’’فروٹ کوریڈور‘‘ کے قیام پر زور دیا، خاص طور پر قومی شاہراہ پر بار بار ہونے والی بندشوں کے پیش نظر۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے پائیدار ہونے چاہئیں اور بنجر یا غیر پیداواری زمینوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
پی ڈی پی صدر نے چناب ویلی اور پیر پنجال خطوں تک ریل رابطہ بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ وسائل سے مالا مال اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل یہ علاقے ناقابلِ اعتماد زمینی رابطوں کی وجہ سے آج بھی معاشی طور پر پسماندہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کے کئی دہائیوں بعد بھی ان خطوں کو قابلِ اعتماد ریل رابطہ نہ ملنا ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی یکجہتی اور متوازن ترقی کے تحت اس عدم توازن کو دور کیا جائے۔
محبوبہ مفتی نے امید ظاہر کی کہ ان کے خدشات اور تجاویز پر وسیع تر عوامی مفاد میں سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
[کے این ٹی]





