امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت سرکردہ سیاسی و مذہبی لیڈران نے معروف سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے ملی ٹینٹ حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
پہلگام میں منگل کی دوپہر نامعلوم عسکریت پسندوں نے سیاحوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد زخمی ہو گئے جبکہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ میں نصف درجن کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ابھی تک سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ایل جی نے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے ڈی جی پی اور سیکورٹی حکام سے ہنگامی طور پر بات چیت کی ہے۔ ان کے مطابق ’’فوج اور جموں وکشمیر پولیس کی ٹیمیں علاقے میں پہنچ چکی ہیں اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔‘‘ ایل جی کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حملہ سے ’’شدید صدمے‘‘ میں ہیں۔ عمر کے مطابق ’’ہمارے مہمانوں پر یہ حملہ ایک شرمناک عمل ہے۔ اس حملے کی ذمہ دار حیوان ہیں، انسانیت سے عاری اور ہر قسم کی مذمت کے مستحق ہیں۔ الفاظ اس ظلم کے لیے ناکافی ہیں۔ میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کرتا ہوں۔‘‘پہلگام میں فائرنگ کے واقعے کے بعد، پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا، ’’میں پہلگام میں سیاحوں پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہوں، جس میں ایک سیاح کی المناک موت ہوئی اور کئی زخمی ہوئے۔ اس طرح کا تشدد ناقابل قبول ہے اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔
جموں و کشمیر پردیس کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ نے پہلگام میں فائرنگ کے واقعے پر کہا کہ ’’یہ قابل مذمت ہے، خاص طور پر سیاحوں پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے، ایک طرف بی جے پی کہتی ہے کہ ماحول بالکل ٹھیک ہے، ہم نے دہشت گردوں کو بھی ختم کر دیا ہے، سب کچھ ٹھیک ہے، میرے خیال میں اسے انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے، بی جے پی کو خامیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔‘‘
انہوں نے بی جے پی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر بی جے پی کو یہ دعویٰ کرنا چاہیے کہ اگر حقیقت میں سب کچھ ٹھیک، حالات ٹھیک ہیں، تو یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ بی جے پی اور حکومت ہند کو ملک کے لوگوں کو بتانا چاہیے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں؟‘‘
علیحدگی پسند لیڈر کا رد عمل
میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے بھی پہلگام حملے کی سخت الفاظ میں مزمت کی ہے۔ انہوں نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا کہ ’’پہلگام سے آنے والی خبر نہایت افسوسناک اور پریشان کن ہے۔ جہاں سیاحوں پر ایک بزدلانہ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ ایسی پرتشدد کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں اور کشمیری روایات کے سراسر منافی ہیں، جو ہمیشہ محبت اور گرمجوشی سے مہمانوں کا خیر مقدم کرتی ہیں۔ ہم اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور دعائیں، اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش رکھتے ہیں۔‘‘











