امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کے روز پارلیمنٹ کی مشاورتی کمیٹی برائے امور خارجہ کی میٹنگ میں وضاحت کرتے ہوئے آپریشن سندور سے متعلق کانگریس کے بیان کی تردید کی۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کے ان الزامات کی تردید کی کہ پاکستان کو آپریشن سندور حملوں کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ مودی حکومت نے کانگریس پر جھوٹے پروپگنڈہ کا الزام عائد کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا۔ جے شنکر نے بتایا کہ ’دہشت گردوں کے کیمپوں پر حملے مکمل ہونے کے بعد ہی پاکستان کو مطلع کیا گیا‘۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ "ہم نے آپریشن سندور میں دہشت گردی کے کیمپوں پر حملے مکمل ہوتے ہی پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کو مطلع کیا تھا۔ پریس انفارمیشن بیورو میں پہلے ہی ایک بیان جاری کیا گیا تھا۔ ممبران پارلیمنٹ کے گروپ دنیا کے مختلف حصوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس لیے پورے ملک کو متحد رہنا چاہئے۔”
جے شنکر نے کہا کہ آپریشن سندور نے پاکستانی افواج کی ساکھ اور مورال کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر بھارت کے موقف پر تین کے علاوہ کسی دوسرے ملک نے تنقید نہیں کی جبکہ سبھی نے بھارت کی کاروائی کو سراہا ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "پہلگام حملہ کے بعد، ہم نے 15 دن تک انتظار کیا کہ آیا پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گا یا نہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی ان کی پسند کا ہتھیار بن چکی ہے۔ جب 9 مئی کی رات پاکستان نے ہمارے شہریوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو ہماری فوج نے دوہری طاقت سے حملہ کیا اور ان کے فضائی اڈوں کو تباہ کردیا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی فوج کو آزادی دی ہے۔”
انہوں نے پارلیمنٹ کی مشاورتی کمیٹی برائے امور خارجہ کے سامنے امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی معاملہ پر بھی صفائی پیش کی۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر خارجہ نے پینل کو بتایا کہ انہوں نے مبینہ امریکی "مداخلت” سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فوجی آپریشن کو روکنے کا فیصلہ پاکستان کی طرف سے درخواست کے بعد دو طرفہ طور پر کیا گیا تھا۔
اس اجلاس میں کانگریس کے علاوہ سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے اور دیگر پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ ایل او پی راہول گاندھی نے ایک ویڈیو کلپ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ پر حملہ کیا تھا جس میں جے شنکر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ حکومت نے فوجی آپریشن کے آغاز پر پاکستان کو حملے کے بارے میں بتایا تھا۔ کانگریس کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کے ہند ۔ پاک جنگ پر دیئے گئے کئی دعویٰ پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔









