جموں کے بخشی نگر علاقے میں 24 جون کوجموں وکشمیر پولیس نے ایک مشتبہ چور کو ہجومی انداز میں نیم برہنہ حالت میں جوتوں کا ہار پہنا کر پولیس گاڑی کے بانٹ پر باندھ کر بازاروں میں گھماتے ہوئے پولیس اسٹیشن پہنچایا ۔ یہ ہجومی انداز نہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہوا بلکہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے سخت ردعمل اور انکوائری کے اعلان کا بھی سبب بنا۔
عینی شاہدین کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں ایک شخص کو مبینہ طور چوری کی کوشش کے دوران لوگوں نے دھر دبوچا اور پولیس کے سپرد کیا۔ پولیس اہلکاروں نے نہ صرف اس کی موقع پر ہی مار پیٹ کی بلکہ جوتوں کا ہار پہنا کر پولیس گاڑی سے باندھ دیا اور بازاروں میں گھما کر عوامی سطح پر شرمندہ بھی کیا۔ پولیس کی جانب سے مبینہ ملزم کی مارپیٹ اور گاڑی پر باندھے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سےشیئر کی گئی۔چند صارفین اس واقعے کو براراست نشر بھی کررہے تھے۔
دوائی خریدتے ہوئے 40 ہزار روپے چوری کا الزام
اس شخص پر الزام ہے کہ یہ شخص دوائیاں خریدتے وقت پیسے چراتا تھا۔ویڈیو میںپولیس کو یہ اعلان کرنے کے لیے پبلک ایڈریس سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ بخشی نگر علاقے میں ایک شخص جو دوا خریدنے آیا تھا اس چور نے اسکے چوری کی۔تقریبا40000 روپے کی چوری کے الزام میں اسے گرفتار کیا گیا ۔ بخشی نگر پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کی قیادت میں پولیس ٹیم میں کئی مقامی لوگ شامل تھے۔
انکوائیری کا حکم
پولیس کے اس رویے پر سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کارکنوں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں۔ وہیں حکام نے جموں کے تمام ایس ایچ اوز کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔ڈی آئی جی پولیس جموں۔سانبہ۔کٹھوعہ رینج، شیوم کمار نے اس حرکت کو ’غیر انسانی‘ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ’’یہ ہمارے قانون کے خلاف ہے، ہم نے تحقیقات شروع کر دی ہے اور ذمہ دار اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔‘‘
جموں پولیس نے بھی اعتراف کیا کہ پولیس ٹیم کا کردار’’غیر پیشہ ورانہ اور نامناسب‘‘ تھا۔ انہوں نے قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ رینک کے ایک پولیس افسر کو معاملے کی تحقیقات کرنے اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہاکہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک شخص کا اوپری حصہ برہنہ تھا۔ تھانہ بخشی نگر کے پولیس اہلکاروں نے اسے چپلوں کے ہار پہنا کر پریڈ کروائی۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے یہ عمل غیر پیشہ ورانہ اور نامناسب ہے۔ اس کے لیے سخت محکمانہ کارروائی کی ضرورت ہے۔
دریں اثناء جموں پولیس نےان پولیس اہلکاروں کے خلاف ابتدائی انکوائری کا آغاز کیا ہے جو اس متنازعہ واقعے میں ملوث پائے گئے ، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔
عوامی ردعمل
انسانی حقوق کے کارکنان اور قانونی ماہرین نے اس عمل کو غیر آئینی اور انسانی وقار کے منافی قرار دیا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی انکوائری کے بعد متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ پولیس فورس کے وقار اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ جموں و کشمیر میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقع نہیں ہے۔جموں میں پیش آئے اس واقعے سے سال 2017کے ’’ہیومن شیلڈ‘‘ کی یاد تازہ ہوئی جس میں فوج نے پارلیمانی چناؤ کے روز ایک شخص کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کیا۔وسطی ضلع بڈگام میں پیش آئےواقعے میں میجر گوگوئی نامی ایک فوجی افسر نے فاروق احمد ڈار نامی ایک شخص کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا۔اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔ تاہم اس میں ملوث میجر گوگوئی کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ اسی سال انہیں اعزاز سے نوازا گیا تھا۔










