• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جنوری ۲۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
سوشل میڈیا:رنگا رنگ لوگوں کی ایک صحراء نما بستی

سوشل میڈیا:رنگا رنگ لوگوں کی ایک صحراء نما بستی

جہا ں پر ہرکوئی صاحب علم و فہم بنا بیٹھا ہے اور اپنا ہر خیر و شر اپنوں میں تقسیم کرنے کے لئے کوشاں ہے

by امت ڈیسک
26/06/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

الطاف جمیل شاہ

فیس بک رنگا رنگ اور مختلف الخیال لوگوں کی ایک صحراء نما بستی ہے جہاں آپ کسی کے دولت کدے مطلب فیس بک صفحہ پر جائیں گے تو شدت پسندی،تعصب، ضد، انانیت، رعونت، محبت، احترام، شائستگی، ایمانیات، و کفریات، حیاء کا خوبصورت تصور، بدی و حرام کاری کے نمائندے مطلب ایک ہی جگہ مختلف الخیال و نظریات کے لوگ میسر آجائیں گے۔ کچھ ایسے کہ جو جوتوں سمیت آلودہ نظریات و خیالات سمیت آپ کے تصور میں گھس جانے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، اور بڑی ڈھٹائی سے گھس بھی جاتے ہیں ۔یہ تو بلا ہو ان نگاہوں کا ،نیند کے سبب خمار آلودہ ہوکر ان ناپاک عزائم کے شیدائیوں کو موندنے پر مسل دیتی ہیں۔آپ اس صحرائی بستی میں گر محتاط و حساس نہیں رہیں گے تو آپ کو پتہ بھی نہیں لگ سکتا۔ اس لئے احتیاط ہی مناسب ہے۔

یہاں آپ کسی خاتون سے مخاطب ہوتے ہیں تو اچانک پتہ چل سکتا ہے یہ خاتون نہیں بلکہ مرد اور وہ مونچھوں پر تاؤ دینے والا ہے۔ آپ کسی کو دوست بنا بیٹھے ہیں بنا دیکھے ہی اس کی میٹھی باتوں کے جال میں آکر تو یقین کریں وہ آپ کی بربادی کے سفر میں سنگ میل کی حیثیت بھی اختیار کرسکتا ہے۔ سو سب سے اچھا کام یہ ہے آپ دیکھیں سوچیں اور سمجھنے کی پوری کوشش کریں۔ صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھیں اور علوم و معارف کی کشید کاری میں مصروف العمل رہیں۔

قرب قیامت کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ شام کو آدمی مسلمان ہوگا تو صبح کافر، صبح مسلمان تو شام کو کافر ہوگا۔ یہ صورتحال سمجھ اس وقت بآسانی آسکتی ہے کہ کیسے میڈیائی نشریاتی ادارے ہر خیر کے مخالف شر کی نشر و اشاعت کرتا ہے اور ذہنی پراگندگی کو فروغ دے رہا ہے ۔ جھوٹ و فریب کی نشریات اس انداز سے پیش کی جاتی ہے کہ آدمی کو سب حقائق لگتے ہیںاور صبح و شام آدمی اسی واہیات کی ترجمانی کرتے ہوئے فخریہ سمجھتا ہے کہ جیسے اس نے کوئی بہت بڑی تحقیقی کام کرکے انسانیت پر احسان کیا ہے، اور اپنی استعداد کے مطابق اس جھوٹ و فریب کا دفاع کرتا رہتا ہے ۔یہ اس وقت کا سب سے بڑا فتنہ بنتا جارہا ہے۔

کیا آپ نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ آپ کی تحقیق کا آخری مراجع اب یہ سوشلستان ہی رہ گیا ہے جہاں پر کوئی صاحب علم و فہم بنا بیٹھا ہے اور اپنا ہر خیر و شر اپنوں میں تقسیم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اکثریت ایسی ہے جو صرف شر کے داعی ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں کئی ویڈیو کریٹر ہیں جو نہ فہم و فراست رکھتے ہیں نہ ہی نظریات افکار کی کوئی قیمت۔ انہیں معلوم ہے وہ کوئی بات کہتے ہیں ویڈیو میں جیسے کوئی مزاحیہ بات یا جنسی فتنے کو عام کرنے کی کوئی سعی ، یا فضولیات پر مبنی کوئی بات تو اس بستی کی اکثریت کو آپ وہاں پائیں گے شاباشی و مرحبا کرتے ہوئے۔

اب دیکھیں نا کسی صنف نازک کی تصویر میسر آتی ہے اس بستی کے کسی گھروندے سے تو آپ نے محسوس کیا ہے اکثر جوشیلے سرفروش نوجوان وہاں اپنی سرفروشی کی قسمیں کھاتے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ سب کیا ہے کبھی سوچیں نا ذرا بہتر اور مناسب انداز میں۔ یہاں مکالماتی بیانیہ کم نہیں بلکہ ناپید ہی رہتا ہے۔ جہاں آپ دیکھیں گے کسی کے خیالات و آراء سے اختلاف کرنا کافی ہے اختلاف کرنے والے کو کافر ، مشرک ، فاسق، بنانے کے لئے آپ کو لگے گا جیسے آپ نے کسی حکم الہی کی اعلانیہ مخالفت کردی جو کسی صاحب رعونت و نخوت کی بات سے اختلاف کرلیا۔ وہ آپ پر کیا اور کیسی زبان استعمال کرتا ہے آپ تصور سے ہی کانپ اٹھیں گے ۔ممکن ہے وہ خطیب زماں ہو یا محقق عصر بھی ہوسکتا ہے ،وہ کوئی متشدد مزاج داعی ہونے کے زعم مین مبتلاء کوئی خرافاتی مزاج کا انسان بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ یہاں کردار و اطوار سے آپ کسی کے ذرا بھی واقف نہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ سوشلستان کے لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ جو ان کی فہرست میں موجود ہے ۔وہ بنا تنخواہ و مراعات کے مزدور ہے انہیں ہر صورت ہاں ہاں کی گردان کرتے رہنا ہے ۔نہیں کی تو مہاشے ناراض ہوجائیں گے اور پھر خباثتوں کا لاوا پھوٹ پڑے گا ۔ سو ایسے میں کیونکر آپ کسی کو پسند کرنے کی بنیاد پر اس کے طرفدار بن کر اس کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں ۔ہوئی نا وہی بات کہ بنا علم کے آپ نے کسی فاجر و نظریاتی معذور انسان کی ترجمانی کردی جو آپ کے لئے بحیثیت صاحب ایمان مناسب ہی نہیں بلکہ کسی صورت جائز عمل بھی نہ تھا ۔پر آپ نے سوچا آپ کے جذبات کی تسکین ہورہی ہے ،آپ کے بکھرے خیالات میں یہ بات پسندیدہ ہے ،سو آپ نے اس کی اشاعت کو عمل صالح سمجھ کر آگے لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیا۔ جیسے یہاں نامی گرامی دانشوروں اور منکرین حدیث یا اسلامی فکر و نظریات سے خار رکھنے والے اشخاص کی کئی ایسی باتیں ہیں جو ایمان و یقین کے لئے سم قاتل ہیں، جن میں مولوی کی تحقیر ، کسی شعائر اسلامی کا مذاق،، مزاح کے نام پر سنتوں کی تحقیر یا فرائض و واجبات اعمال کے لئے عقل کل افراد کی جاہلانہ آراء میسر ہیں‘ تو یہاں براجماں علم و عمل سے عاری لوگ اسے اپنے گھر یعنی اپنی وال سے فوری عام کردیتے ہیں۔ ساتھ میں ھی ھی کی ایموجی لگا کر تو ذرا سوچیں آپ کس کے لئے کام میں مگن و مصروف ہیں۔ جس بات کو ہم ہر صورت دوسروں کے لئے نعمت ایمانی سے محرومی کا سبب مانتے ہیں ، اپنے کسی مخالف فکر کو ہم مطعون بھی کردیتے ہیں ‘وہی کام ہم کیسے پردے کی اوٹ میں خود انجام دیے دیتے ہیں۔

یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم یہاں کیا کرنے بیٹھے ہیں۔ کیا اہل ایمان کے لئے حیاء سوز ویڈیوز کے دیدار کرنے اور ہر کسی کا گماشتے بن کر رہنا ہی آخری کام رہ گیا ہے۔ یا ہم انسانیت کی فلاح و کامرانی کے لئے بھی کوئی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنے آس پاس موجود ماحول کی گندگی سے ہم کس قدر آشناء ہیں اور اس سے بچنے کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کررہے ہیں، فضول وجود تو کسی مخلوق کا نہیں ہے پھر کیوں ہم اپنی غیر حساسیت سے یہ باور کرا رہے ہیں کہ میرا کام کوئی نہیں سوائے ہر گندگی سے آراستہ نالی میں نہانے کے ۔

اللہ تعالیٰ نے دماغ دیا ہے ،شعور و حساسیت سے نوازا ہے، کیوں ہم اس کا استعمال کرکے کسی خیر و عافیت کے کام کو ترجیح نہیں دیتے۔ ہم اب حادثات و فحاشیات کے دلدادہ اس قدر بن گے ہیں کہ ہر دن ان ہی دو خباثتوں سے آشنائی ہوتی جارہی ہے ۔شر اپنی پوری قوت سے ہم پر سواری کر رہا ہے اور ہم ناداں اس فکر میں ہے کہ دجال آیا کہ نہیں۔

پیارے جگر کے ٹکڑو دجال کی آمد سے پہلے ایک جنگ تہذیبوں کی ہوگی۔بدی کی تہذیب و تمدن کا پہلے چلن عام ہوگا ،نیکی و شائستگی اندھیروں کی نظر ہوجائے گئی۔ دنیا فساد و فتنے کی آماجگاہ بنا جائے گئی پھر دجال اپنے محبین کے پاس آئے گا جو اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔ ایسا نہیں کہ وہ آکر پہلے تبلیغ کرے گا ،پھر دنیا کے لوگوں سے لڑے گا ،پھر قوت پائے گا۔ ایسا نہیں ہے ۔اس کی مخالفت میں تو چند ہی مؤمنین ڈٹ جائیں گئے بقیہ عوام تو اس کی چکا چوند اختراعی چیزوں کے سحر میں اس کی ہم نوا ہوجائے گئی۔ تو ہم کہاں ہوں گے یہ سوچنے کی بات ہے۔

فی الحال تو ہم نے تہذیبی و ثقافتی میدان میں شکست خوردگی تسلیم کرلی ہے۔ سو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اسلامی تہذیب و تمدن کا جنازہ ہماری بستیوں گھروں سے اور شخصیات کے کردار و گفتار سے کیسے سرک رہا ہے۔ تو ایسے میں یہ کیسے آپ یا ہم دعویٰ کرسکتے ہیں کہ اس فکر کے امین ہیں جس فکر کے داعی احمد مجتبٰی محمد عربی ﷺ تھے۔ آپ اس وقت کچھ بھی سوچیں یا کہیں لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت آپ کی دنیا میں کیا ہے اور معاشرے میں آپ نے کیا مقام دے رکھا ہے۔ سماجی اقدار میں آپ کس چیز کے طلبگار ہیں، صالح یا بدی کے ۔

ہم خود ہی خود کے سب سے بڑے ناقد بھی ہیں اور ہمدرد بھی۔ خود ہی خود کے نفس طیبہ کو تھوڑا سا طاقتور بنائیں اور پھر اس سے پوچھیں کہ کیا حال ہیں۔ میں اپنا تجربہ کہوں تو ہم سب نے ناکامی کی اور دوڑ لگا رکھی ہے، چاہ کر یا نہ چاہ کر ۔پر دوڑ میں ہم کسی نہ کسی صورت سب شامل ہے اور اس دوڑ کی منزل دنیا کی چاہ و طلب ہی ہے۔ سو نیکی و بدی کا تصور مٹا کر ہم اپنی کامیابی چاہتے ہیں اور اپنی دنیا کی بقاء و دوام کے لئے ہر شر کے طرفدار بنتے جارہے ہیں اور حال یہ کہ خیر سسک رہا ہے ہمارے آس پاس۔ پہلے پہلے تو تھورا سا سکون تھا پر سوشل میڈیا نے ہر دیوار حیاء و صالح کو گرا کر بدی کی صحراء نما ایسی بستی بسا دی ہے جہاں ہر طرف شر ہی شر کی ترویج ہوتی جارہی ہے اور خیر کا تصور کسی کونے میں دبک کر خاموش ماتم کناں ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

کیا ریاستی درجے کی بحالی شرائط کےساتھ ہوگی؟

Next Post

جموں میں مبینہ  چور کی برہنہ پریڈ کی وائرل ویڈیو: کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

سرینگر میں گھریلو ملازم کے ہاتھوں خاتون کا بہیمانہ قتل، بیٹا سعودی عرب میں سی سی ٹی وی پر منظر دیکھتا رہا

سرینگر میں گھریلو ملازم کے ہاتھوں خاتون کا بہیمانہ قتل، بیٹا سعودی عرب میں سی سی ٹی وی پر منظر دیکھتا رہا

22/01/2026
بھارت نے زخم دئے، ان سے ہی مرحم لیں گے : الطاف بخاری

جوڈیشل امتحان کے نتائج پر الطاف بخاری کا سوال، علاقائی عدم توازن پر تشویش، ایل جی سے فہرست روکنے کی اپیل

22/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کیا، بھارت میں کھیلنے سے انکار

22/01/2026
بھدرواہ۔چمبا سڑک حادثہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ازجان، 11 زخمی

بھدرواہ۔چمبا سڑک حادثہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ازجان، 11 زخمی

22/01/2026
کشتواڑ کے جنگلات میں ملی ٹنٹوں سے دوبارہ رابطہ، وقفے وقفے سے فائرنگ

کشتواڑ کے جنگلات میں ملی ٹنٹوں سے دوبارہ رابطہ، وقفے وقفے سے فائرنگ

22/01/2026
ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ

ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ

22/01/2026
Next Post
جموں پولیس کا ’غیر انسانی‘ فعل: ’چور‘ کی نیم برہنہ پریڈ، انکوائری کے احکامات صادر

جموں میں مبینہ  چور کی برہنہ پریڈ کی وائرل ویڈیو: کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے؟

قبولیتِ دعا! (افسانہ)

دعاؤں کی وہ وسعت کہاں گئی!

ایران نے اسرائیل پر 27 میزائل داغے، تحقیقی تنصیبات اور سپورٹ بیسز کو بنایا نشانہ، بڑے پیمانے پر تباہی، متعدد اسرائیلی زخمی

خون، راکھ اور ملبے : جنگوں میں صرف عام انسان مرتے ہیں

نئےہجری سال کے آغاز پر غلاف کعبہ تبدیل

نئےہجری سال کے آغاز پر غلاف کعبہ تبدیل

جزیرہ ہوائی میں ڈرون کے ذریعے مچھر کیوں چھوڑے جا رہے ہیں؟

جزیرہ ہوائی میں ڈرون کے ذریعے مچھر کیوں چھوڑے جا رہے ہیں؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »