امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری کے دھرمسال علاقے میں اتوار کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک فوجی جوان حادثاتی طور پر ہوئی فائرنگ کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی ہے جب کہ فوجی حکام اور پولیس نے معاملے کی تفصیلی جانچ شروع کر دی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، فوجی جوان کی سروس رائفل سے اچانک گولی چل گئی، جس کے باعث وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا۔ اسے فوری طور پر نزدیکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
متوفی فوجی کی شناخت نائیک روی کمار ولد چندر پرکاش ساکن چننی پرات کے طور پر ہوئی ہے، جو کہ بھارتی فوج میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔ فوج کے مطابق روی کمار اپنی فرض شناسی اور دیانتداری کے لیے جانے جاتے تھے اور ان کی اچانک موت نے ان کے ساتھی اہلکاروں کو غمزدہ کر دیا ہے۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مکمل طور پر ایک حادثہ تھا، تاہم معاملے کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کی کوتاہی یا دیگر پہلوؤں کو بھی خارج از امکان نہ رکھا جا سکے۔
دریں اثناء، مقامی پولیس تھانے میں اس واقعے کی نسبت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تفتیشی عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہر زاویے سے معاملے کو دیکھا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جموں و کشمیر میں حادثاتی فائرنگ میں ہلاکتوں کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ دو نومبر 2024 میں بھی اسی نوعیت کا ایک دلخراش واقعہ سرینگر کے مضافاتی علاقہ راول پورہ میں پیش آیا تھا۔ اس وقت ایک فوجی جوان حادثاتی طور پر اپنی سروس رائفل سے خارج ہونے والی گولی سے ہلاک ہو گیا۔ وہیں راجوری میں ہی تین ستمبر 2023 کو ایک گاؤں میں آپریشنل ٹاسک کے دوران حادثاتی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جے کے پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کی ایک آپریشنل ٹیم راجوری کے کنتھول خواس گاؤں میں خصوصی مہم پر تھی.








