امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ : جنوبی کشمیر کے اننت ضلع کی ایک عدالت نے 2017 میں ایک قصاب کے اغوا اور قتل کے الزام میں تین افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے اسے مالیاتی فائدے کے لیے انجام دیا جانے والا بہیمانہ اور منصوبہ بند فعل قرار دیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن کورٹ، اننت ناگ، نے جاوید احمد پوسوال، محمد اشرف کالوخیل اور محمد عمران پوسوال کو پولیس اسٹیشن مٹن میں درج ایف آئی آر نمبر 63/2017 میں رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 302 اور 109 کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے یہ سزا سنائی۔ عدالت نے مجرموں پر جرمانہ بھی عائد کیا اور ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی (DLSA) اننت ناگ کو ہدایت دی کہ وہ جموں و کشمیر CrPC کی دفعہ 545-A کے تحت متاثرہ کے خاندان کو معاوضہ فراہم کرے۔
سینئر پراسیکیوٹنگ آفیسر، محمد یٰسین نجار، کی سربراہی میں استغاثہ نے فارنسک شواہد، کال ریکارڈز اور گواہوں کی شہادتیں پیش کیں جن سے سزا کو محفوظ بنانے میں مدد ملی۔
کیسے رچی گئی قتل کی سازش
پولیس چارج شیٹ کے مطابق حیدر پورہ کے 29 سالہ مشتاق احمد گنائی کو مویشیوں کی خریداری کے بہانے ہٹمرہ، مٹن کے جنگلات میں لے گئے، جہاں اس کا گلا دبا کر قتل کیا گیا اور اس کی نقدی رقم لوٹ لی گئی تھی۔ اس کی لاش 29 جون 2017 کو لاپتہ ہونے کے کئی دن بعد برآمد کی گئی تھی، جس سے بڑے پیمانے پر عوامی غم و غصہ پھوٹ پڑا تھا۔
پولیس نے اس ضمن میں کیس درج کرکے تفتیش شروع کی اور تینوں کو حراست میں لے لیا۔ گزشتہ دنوں کورٹ نے سبھی شواہد اور ثبوتوں کا معائنہ کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عمر قید یہ سزا ایڈیشنل سیشن جج مسرت روحی نے سنائی۔










