• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جنوری ۲۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
ڈاکٹر زبیر راتھر کے نام

ڈاکٹر زبیر راتھر کے نام

سید مصطفیٰ احمد/ حاجی باغ، بڈگام

by امت ڈیسک
04/08/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

میں کہاں سے شروع کرو اور کہا ختم سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔درد کی کونسی زبان ہوتی ہے؟کیا کسی بھی قسم کے درد کو الفاظ کا جامہ پہنایا جاسکتا ہیں؟ جب اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کئی تھی،اس دن سے میرے دل کا ایک کونا مایوسی کا شکار ہوگیا تھا۔اس مایوسی میں تب مزید اضافہ ہوا جب اسرائیل نے ایک ہی دن میں لگ بھگ پانچ سو فلسطینیوں کو شہید کر دیا جن میں زیادہ تر بچے شامل تھیں۔اب اس درد سے جینے کی عادت ہی ہوگئی تھی کہ ایک اور ایسا حادثہ پیش آیا جس حادثے نے میری روح کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔

پی۔ایچ۔ڈی اسکالر ڈاکٹر زبیر راتھر صاحب کی کچھ دنوں پہلے جب ایک دردناک حادثے میں موت واقع ہوئی۔ تب سے پورے دل پر جیسے کہ دکھوں کے ناتھمنے والے بادلوں نے اپنا ڈھیرا ڈالا ہیں۔اب پورا جسم جیسے بےجان سا ہوگیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اس سے پہلے اپنے باپ اور بہن کی موت کو مشاہدہ کیا تھا لیکن انسان کی عادت ہے کہ دوسرے شخص کی موت کبھی بھی اپنی موت نہیں لگتی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے ایم ایس سی باٹونی (نباتات)کی ڈگری حاصل کی تھی۔ پی۔ایچ۔ڈی کاداخلہ امتحان پاس کرنے کے علاوہ کئی نامورتحقیقی مقالے اپنے نام کرچکے تھے۔تحقیقات کے بنیادی اصولوں سے واقف ہونے کی بنا پر اپنا لوہا منوانے میں سرگرم عمل تھے۔ذہانت کے اونچے پائیدان پر براجمان زبیر صاحب نے کبھی بھی محنت اور لگن سے جی چرانے کی رتی بھر کوشش نہیں کئی۔گھر کے ہرفرد کا خیال رکھتے ہوئے زبیر راتھر نے ایک حسین اور امن والی زندگی کا خواب دیکھا تھا ؛لیکن وہ خواب اتنی جلدی ٹوٹ جائے گا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

معمول کے مطابق اس دن بھی طلباء کو پڑھانے کے غرض سے گھر سے تو نکلے مگر لوٹ کر کبھی نہیں آئے۔ہاں! لوٹے بھی تو اس شکل میں کہ اسپتال سے ان کی لاش کو گھر پہنچایا گیا۔کیا سماں رہا ہوگا جب ذہین اور محنتی ڈاکٹر صاحب کی لاش ان کے آبائی گاؤں پہنچائی گئی ہوگی؟اس کے گھر والوں کی حالت کیا رہی ہوگی جب کفن میں لپٹا ہوا جسم آخری سواری کی تیاری میں ہو اور دوست زار و قطار رورہے ہوں!اے خدا! کہاں ہے تو؟

اس مضمون کو لکھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسوؤں کے موٹے موٹے قطرے ٹپک رہے ہیں۔یہ اس لئے کیونکہ میں نے بھی زندگی میں غربت کا مکروہ چہرہ دیکھا ہے۔باپ کو بچپن سے مزدوری کرتے ہوئے دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے۔زبیر صاحب کی زندگی میں بھی مجھے اپنی جھلک دکھائی دیتی ہے۔میں ان کو اپنا استاد مانتا ہوں۔مانا کہ وہ ہمارے درمیان نہیں ہے لیکن پھر بھی عمر اور تجربہ کے لحاظ سے وہ میرے استاد ہے۔ان کا نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانا اور پھر گھر کی ذمہ داریاں پورا کرنا ایک’ بڑے جہاد ‘سے کم نہیں ہے۔تین بیٹیوں کا باپ ہونا کوئی مذاق کی بات نہیں ہے۔تین شہزادیوں کی دیکھ بھال کرنا اجر عظیم ہے۔اس کے علاوہ گھر کے دوسرے افراد کی ذمہ داری اٹھانا، ڈاکٹر زبیر راتھر صاحب کو اعلیٰ انسانوں کی صفحوں میں کھڑا کرتا ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موت سے کسی کوفرار نہیں ہے،آج میری کل تیری باری ہے۔زبیر صاحب کے نصیب میں اتنے ہی دن تھے اور اس کے بعد ملک الموت کی آواز پر لبیک کہنا نہایت ضروری تھا۔زندگی ایک مسکان ہے درد کی کوئی پہچان ہے‘ کے مصداق جب تک زبیر صاحب زندہ تھے تب تک،اگر سختیوں میں ہی سہی،زندگی کا جیسے تیسے مزہ لے رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی سانسوں کی ڈوری کٹ گئی دکھ اور الم کی لمبی داستانیں وجود میں آنے لگی۔

مضمون کو قلمبند کرتے ہوئے میرے ہاتھوں میں تھرتھراہٹ اور آنکھوں میں مایوسی کی جھلک دور سے دکھائی دے رہی ہے۔اپنے گنے چنے غریب دوستوں سے جب میں نے زبیر صاحب کے بابت بات کی تو وہ سب بھی اس حادثے کی وجہ سے ایک عجیب ذہنی بے چینی کا شکار ہوگئے تھے۔اپنی بےبسی کے علاوہ ڈاکٹر صاحب جیسے لوگوں کا حادثات کی زد میں آکر دنیا سے کوچ کرنا ان کے لئے تخلیف دہ سانحہ ہے۔ہم عام انسان ہیں۔عام زندگی جیتے ہیں۔ہمارے گھرانوں سے اگر کوئی انگریزی میں بات کرے تو وہ ناقبل قبول بات ہے۔ہم دوسروں کو دیکھ کر جیتے ہیں۔قارین میری باتوں سے اختلاف رکھنے کا بھرپور حق رکھتے ہیں۔زبیر راتھر جیسے ذہین لوگ ہمارے لئے انسپائریشن کا کام کرتے ہیں۔ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی حتی الامکان جتن کرتے ہیں۔اس لئے جب بھی زبیر احمد جیسے باصلاحیت جوان اس دنیا کو چھوڑ کر اس دیس میں چلے جاتے ہیں جہاں سے کوئی صدا لوٹ کر نہیں آتی ہے تو باقی افراد کی طرح ہمارے اذہان پر بھی اثر پڑتا ہیں۔ہم لاچاری اور بےبسی کے مضبوط مجسموں کی منہوس شکلیں اختیار کرنے لگتے ہیں۔

اب جب کہ ڈاکٹر صاحب ہمارے بیچ نہیں رہے تو ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ان کے لئے دعائے مغفرت کریں۔ان کی روح کی تسکین کی خاطر اللہ سے دعا کرتے رہے۔اس کے علاوہ ان کے کام کو کبھی فراموش نہ کرے۔ان کی محنت کو رائیگاں نہ ہونے دیں۔ان کی اپنے کام کے تئیں لگن کی سراہنا کرتے رہیں۔ان کے تحقیقی کام کو محفوظ ہاتھوں میں سونپ دینا چاہئے۔ یہ بنیادی کاموں میں ایک کام ہے۔ان کے نام پر وقتاً فوقتاً سیمیناروں کا انعقاد کیا جانا چاہیے تاکہ وہ ہمارے بیچ زندہ رہے۔ان کی باتوں کو بڑے احتیاط کے ساتھ جمع کرکے ان کی میراث کو آنے والی نسل کے لئے بھی مہیا رکھنا چاہیے۔مزید برآں زبیر صاحب کے گھر کے افراد کی ہر قسم کی مدد کئی جانی چاہئے۔مالی معاونت کے علاوہ زبیر صاحب کی بیٹیوں کا خرچہ سرکار کے علاوہ ہم سب کو اٹھانا چاہیے اور اٹھانا بھی ہوگا۔وہ بھی ہماری بیٹیوں اور بہنوں کی طرح ہیں۔ان کا بابا اس دنیا سے چلا گیا لیکن ہم تو ہیں۔اپنے خرچوں میں سے تھوڑا بچت کرکے ہم زبیر صاحب کے گھر کے افراد کو ان کی کمی کھلنے نہیں دیں گے۔بغیر مذہب و ملت ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیں کہ انسانیت کی خاطر ہم ہر یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرے۔

حضرت محمد مصطفیٰﷺ دُرّ یتیم تھے۔انہوں نے کبھی بھی کسی یتیم کو دھتکارا نہیں۔کسی کو بےعزتی کی نگاہوں سے نہیں دیکھا۔ مہنگائی کے اس دور میں اور بےروزگاری کی لپیٹ پھنسی ہوئی دنیا میں جتنا ہوسکے ناداروں اور مفلس لوگوں کی دلجوئی کرنی چاہئے۔

زبیر صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کی قبر کو پُرنور کرے۔میں کوئی بڑا مضمون نگار نہیں ہوں کہ آپ کی ہر ادا پر کھل کر بات کر سکوں۔میں ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں جو الفاظ کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ڈاکٹر صاحب! مجھ سے جتنا ہوسکا میں نے اتنی کوشش کی۔میں آپ کے حق میں دعا کرسکتا ہوں اور آپ کے گھر کے افراد کی جتنی بھی معاونت ہماری طرف سے ہوسکتی ہیں ہم کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کے اعلیٰ درجے پر فائز کرے۔آپ کے گناہوں کو معاف کریں۔آپ کا روحانی سایہ آپ کے گھر کے افراد پر ہمیشہ رہیں۔کسی شاعر نے کیا خوب لکھا ہے کہ تم(زبیر صاحب) لوٹ کر نہ آؤ کسی شام کو مگر ہر شام انتظار تمہارے لئے کیا۔

زبیر صاحب! اب آپ لوٹ کر نہیں آوگے لیکن یہ دل ہمیشہ تمہارے انتظار میں رہے گا۔ آنکھیں تمہاری انتظار میں ہمیشہ رہیں گی۔جب بھی سائنس خاص کرنباتات کا ذکر آئے گا، زبیر صاحب تم ہم کو یاد آؤگے۔ہاں! ڈاکٹر صاحب تم ہم سب کو ہمیشہ یاد آوگے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

کولگام میں چوتھے روز بھی آپریشن جاری، وقفے وقفے سے فائرنگ

Next Post

حماس کا فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار ڈالنے سے انکار

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

نسائی شاعری کا ارتقا

کزنز زندگی کے خاموش محافظ….

16/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

والدین کی قربانیوں کی کوئی انتہا نہیں

16/01/2026
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

داستانِ عہدِ رفتہ: جب مٹی سونا تھی….​چند یادیں بیتے دنوں کی

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

کشمیر کی سڑکیں موت کی آماجگاہ

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

03/01/2026
حوصلہ شکنی کے بجاۓ حوصلہ افزائی کیجئے ہر شخص جینے کا حق رکھتا ہے۔۔۔!‎

والدین کے ساتھ بد سلوکی تربیت میں کمی یا فرمان برداری کا زوال۔۔۔۔۔!‎

03/01/2026
Next Post
اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد پیداشدہ جنگی صورت حال: کس کی جیت کس کی ہار؟

حماس کا فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار ڈالنے سے انکار

یوکرین جنگ میں روس کی فنڈنگ کر رہا بھارت، ٹرمپ کے مشیر کا بھارت پر الزام

یوکرین جنگ میں روس کی فنڈنگ کر رہا بھارت، ٹرمپ کے مشیر کا بھارت پر الزام

کشمیر میں سڑے ہوئے گوشت کی سپلائی، پولیس نے کیس درج کیا

کشمیر میں سڑے ہوئے گوشت کی سپلائی، پولیس نے کیس درج کیا

امرناتھ یاترا، ایل جی منوج سنہا نے لیا انتظامات کا جائزہ

جموں وکشمیر کی بچیوں کا زراعت کے شعبے کی ترقی میں بہت بڑا کردار ہوگا: منوج سنہا

این ایس اے ڈوول، ہوم سیکرٹری، آئی بی چیف کی امت شاہ سے اعلیٰ سطحی میٹنگ؛ این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل طلب

این ایس اے ڈوول، ہوم سیکرٹری، آئی بی چیف کی امت شاہ سے اعلیٰ سطحی میٹنگ؛ این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل طلب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »