امت نیوز ڈیسک //
گڑگاؤں کی ایک رہائشی سوسائٹی میں روزگار کمانے کی کوشش کر رہے ایک نوجوان کشمیری شال فروش پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ واقعے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں نوجوان کو پیٹا جا رہا ہے اور حملہ آور اسے بغیر اجازت سوسائٹی میں داخل ہونے کا الزام لگا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نوجوان کو پیٹا گیا اور ہراساں کیا گیا، بظاہر صرف اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ نوجوان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنا اور سوشل میڈیا پر سخت غم و غصے کو جنم دیا۔ متعدد صارفین نے سوسائٹی کے سکیورٹی گارڈز کے کردار پر سوال اٹھائے کہ انہوں نے متاثرہ کو بچانے کے بجائے حملہ ہونے دیا۔
محمد ہارون نے لکھا: "ایک کشمیری مسلمان نوجوان، جو روزی کمانے کی کوشش کر رہا تھا، کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے مبینہ طور پر پیٹا اور ہراساں کیا گیا۔ لیکن اسے دہشت گردی مت کہیے۔”
سیاسی حلقوں نے بھی اس حملے کی مذمت کی۔ عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے کہا: "یہ صرف گڑگاؤں میں ایک کشمیری مسلمان نوجوان پر حملہ نہیں بلکہ ہماری مشترکہ انسانیت پر حملہ ہے۔ ہم اس نفرت انگیز عمل کی مذمت کرتے ہیں اور ان سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں جو اسے بچانے میں ناکام رہے۔ نفرت اب ہماری قوم کی پہچان نہیں بن سکتی۔”
ایک اور صارف نے پولیس اور صحافیوں کو ٹیگ کرتے ہوئے ‘ایکس’ پر لکھا: "ایک کشمیری مسلمان نوجوان جو روزی کمانے کی کوشش کر رہا تھا، صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے پیٹا گیا اور صدمے میں ہے۔ آخر سوسائٹی کی سکیورٹی کو کیوں نہیں کٹہرے میں لایا جا رہا؟ کسی کو صرف محمدی ہونے کی وجہ سے کیوں مارا گیا؟”
گڑگاؤں پولیس نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔










