امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 29 اگست: سپریم کورٹ نے جمعرات کو جموں و کشمیر حکومت کی اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں 25 کتابوں — جن میں اے۔ جی۔ نورانی، اروندھتی رائے اور انورادھا بھاسن کی تصانیف شامل ہیں — کو "ضبط شدہ” قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے الزام لگایا تھا کہ یہ کتابیں علیحدگی پسندی کو بڑھاوا دیتی ہیں اور بھارت کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
جسٹس سوریا کانت، جوئمالیا بگچی اور وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے عرضی گزار ایڈووکیٹ شاکر شبیر کو یہ آزادی دی کہ وہ اس معاملے کو جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ میں لے جائیں۔ عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا کہ وہ اس مقدمے کو تین رکنی بنچ کے سامنے جلد سماعت کے لیے فہرست میں شامل کریں۔ (لائیو لا کے مطابق)
عرضی میں بھارتیہ نگریک سورکشا سنہیتا (BNSS) کی دفعہ 98 کو بھی چیلنج کیا گیا تھا، جو ریاستی حکومتوں کو کسی بھی "غیر قانونی” قرار دی گئی اشاعت کو ضبط کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ عرضی گزار کے وکیل سینیئر ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے نے دلیل دی کہ یہ دفعہ "پورے بھارت میں لاگو ہوتی ہے” اور "انتہائی وسیع اختیارات دیتی ہے۔”
سپریم کورٹ نے یہ رجحان افسوسناک قرار دیا کہ فریقین ہائی کورٹ کو بائی پاس کر کے براہِ راست سپریم کورٹ آتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ اس معاملے کے لیے سب سے موزوں فورم ہے، خاص طور پر اس لیے کہ کچھ پابندی شدہ کتابوں کے مصنفین مقامی ہیں۔ عدالت نے یہ عرضی بھی رد کر دی کہ کیس کو کسی دوسرے ہائی کورٹ منتقل کیا جائے، اور کہا کہ ایسا قدم "حوصلہ شکنی کرنے والا” ہوگا۔
جموں و کشمیر کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی 5 اگست کی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ یہ کتابیں تاریخ کو مسخ کرتی ہیں، دہشت گردوں کی تعریف کرتی ہیں اور سکیورٹی فورسز کو بدنام کرتی ہیں، جس سے نوجوانوں میں انتہا پسندی پھیلتی ہے۔
پابندی شدہ کتابوں میں سمنترا بوس کی Contested Lands، نورانی کی The Kashmir Dispute 1947–2012، رائے کی Azadi اور بھاسن کی A Dismantled State شامل ہیں۔









