امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر پولیس نے ہفتے کے روز حضرتبل درگاہ میں قومی نشان کی توڑ پھوڑ کے معاملے میں 26 افراد کو حراست میں لیا۔
یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا تھا، جس نے ریاست میں شدید تنازع کو جنم دیا۔ درگاہ، جہاں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا تبرک محفوظ ہے، کی تزئین و آرائش کے کتبے پر قومی نشان نصب کیا گیا تھا، جس پر عوامی ردعمل کے بعد اس کو نقصان پہنچایا گیا۔ واقعہ رپورٹ ہوتے ہی پولیس نے جائے واردات کی فوٹیج کا جائزہ لیا اور دیگر شواہد اکٹھے کرنے کے بعد متعدد مشتبہ افراد کو تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا۔
سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور نیشنل کانفرنس (این سی) نے عبادت گاہ میں قومی نشان کی تنصیب پر شدید اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی تراشیدہ علامت کو عبادت گاہ میں لگانا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ اسلام میں بت پرستی کی سخت ممانعت ہے۔
پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے وقف بورڈ کی چیئرپرسن دراخشاں اندرابی پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام لگایا۔ مفتی نے قومی نشان کی شمولیت کو "گستاخی” قرار دیا اور کہا کہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا:”حضرتبل کا تعلق ہمارے نبی اکرم ﷺ سے ہے اور وہاں کسی قسم کی گستاخی مسلمانوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ یہ معاملہ قومی نشان کے خلاف نہیں بلکہ ہمارے دین میں بت پرستی حرام ہے، اور یہ عمل اسی زمرے میں آتا ہے۔”
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی درگاہ پر نشان نصب کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھایا اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ملزمان پر کارروائی پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا:”آخر اس کتبے اور نشان کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیا پہلے سے جاری کام کافی نہیں تھا؟”
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس توڑ پھوڑ سے "انتہائی رنجیدہ” ہیں، تاہم انہوں نے درگاہ میں نشان نصب کرنے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دوسری جانب، جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن نے اس سے قبل اس عمل کو تخریب کاری قرار دیا تھا اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس واقعے میں ملوث افراد "دہشت گرد” ہیں اور ان کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے سخت قوانین کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔










