امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 24 ستمبر (کے این ٹی): جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ ریاستی درجہ بحال نہ کرنے پر جموں و کشمیر کے عوام خود کو سخت دھوکہ خوردہ محسوس کر رہے ہیں، حالانکہ مرکز کی جانب سے بار بار یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں۔
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی صورتِ حال کا موازنہ لداخ سے کرتے ہوئے کہا کہ لداخ کو کبھی ریاستی درجہ دینے کا وعدہ بھی نہیں کیا گیا تھا، اس کے باوجود وہاں کے لوگ اپنے آپ کو دھوکہ کھایا ہوا سمجھتے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا:
"لداخ کو ریاستی درجہ دینے کا وعدہ تک نہیں کیا گیا تھا، انہوں نے 2019 میں یونین ٹیریٹری کا درجہ ملنے پر جشن منایا تھا اور آج وہ دھوکہ کھائے اور ناراض ہیں۔ اب سوچیں ہم جموں و کشمیر کے لوگ کتنے مایوس اور دھوکہ خوردہ محسوس کرتے ہیں جب ہمیں ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن وہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا، حالانکہ ہم نے یہ مطالبہ ہمیشہ جمہوری، پرامن اور ذمے داری کے ساتھ کیا ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ ریاستی درجہ کا مطالبہ کوئی انتہا پسندانہ یا انتشار پیدا کرنے والا مطالبہ نہیں بلکہ ایک جمہوری حق ہے، جسے جموں و کشمیر کے عوام صبر و تحمل کے ساتھ اٹھاتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا:
"ہم نے یہ مطالبہ آئینی دائرے کے اندر رہ کر کیا ہے لیکن حکومتِ ہند مسلسل اس کی بحالی میں تاخیر کر رہی ہے۔”
عمر عبداللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب لداخ میں ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول کے تحت تحفظ کے مطالبات کے ساتھ احتجاجی تحریک شدت اختیار کر چکی ہے اور تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔











