امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعرات کو لداخ کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئی دہلی سے ’’خطے کی قیادت کے ساتھ فوری بات چیت شروع‘‘ کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ ’’یہ علاقہ چین سے متصل ہے۔‘‘
فاروق عبداللہ نے کہا: ’’یہ بہت حساس علاقہ ہے۔ اگر ہم نے خلاء کو پر نہ کیا تو کوئی اور کر دے گا۔ چین اس خطے کا دعویٰ کرتا ہے اور میک موہن لائن (لائن آف ایکچول کنٹرول) کو تسلیم نہیں کرتا۔ حکومت کو وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے الزام عاید کیا کہ چین نے لداخ کی زمین پر قبضہ کیا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ حالات کو بگڑنے سے پہلے مذاکرات شروع کرے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب محض ایک روز قبل ہی لیہہ میں پرتشدد جھڑپوں کے دوران پانچ افراد ہلاک، 70 سے زائد زخمی اور پچاس سے زیادہ گرفتار کیے گئے۔ مشتعل مظاہرین نے بی جے پی دفتر سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگا دی تھی۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سرینگر میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے پانچ برس سے روزگار جیسے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے پر خاموش احتجاج کیا، مگر جب امیدیں ٹوٹ گئیں تو وہ سڑکوں پر آگئے۔ انہوں نے لداخ معاملے میں غیر ملکی ہاتھ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’’یہ عوام کی آواز ہے، کسی پارٹی کی سازش نہیں۔‘‘









