امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 26 نومبر: شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ، سرینگر نے بدھ کے روز اپنے حالیہ حکم نامے سے متعلق وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوڈل آفیسرز کے بارے میں جاری ہدایات کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ مریضوں میں کسی قسم کی سفارش یا رتبے کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا، اور تمام ٹرائیجنگ و کیسوں کی درجہ بندی صرف اور صرف طبی ہنگامی ضرورت کے مطابق کی جاتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ’’میڈیکل سوشل ویلفیئر سیل‘‘ جس میں نامزد عملہ اور نوڈل آفیسر تعینات ہیں، حال ہی میں قائم کیا گیا ہے تاکہ مریضوں کے بہاؤ کو بہتر بنایا جائے اور غریب و مستحق افراد کو مختلف سرکاری اسکیموں جیسے آیوشمان بھارت اور چیف منسٹر کینسر ٹریٹمنٹ پروگرام کے تحت مدد فراہم کی جاسکے۔
حکام کے مطابق متعلقہ حکم نامہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تھا کہ وہ غریب مریض جو راج بھون، چیف منسٹر آفس یا دیگر اعلیٰ دفاتر سے مالی یا طبی معاونت کے لیے رجوع کرتے ہیں، انہیں ان اسکیموں تک رسائی میں کوئی دقت نہ ہو۔
ایس کے آئی ایم ایس نے سوال اٹھایا:“وی آئی پی ٹریٹمنٹ کا سوال کہاں سے آتا ہے؟”ادارے نے کہا کہ جاری تنازعہ شاید غلط فہمی یا سنسنی خیز رپورٹنگ کا نتیجہ ہے۔
انسٹی ٹیوٹ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ برابرانہ علاج، اخلاقی طبی عمل اور شفافیت کے اصولوں پر قائم ہے، اور عوام سے اپیل کی کہ وہ درست اور مستند معلومات پر ہی انحصار کریں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ذمہ دار عوامی مباحثہ طبی اداروں پر اعتماد قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے، اور ایس کے آئی ایم ایس ایسے نظام مزید مضبوط کرتا رہے گا جو ہر مریض کو بلا خوف و امتیاز فائدہ پہنچائیں۔











