امت نیوز ڈیسک //
جموں، 4 دسمبر : جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ نے ڈوڈہ سے ایم ایل اے مہراج ملک کی حراست کے خلاف دائر ہیبیس کارپس درخواست کو آج جزوی سماعت شدہ قرار دیتے ہوئے اگلی سماعت 18 دسمبر 2025 مقرر کی ہے۔
معاملہ جموں ونگ میں جسٹس محمد یوسف وانی کے سامنے پیش ہوا۔ سماعت کے دوران سینیئر ایڈووکیٹ راہل پنت، جن کی معاونت ایڈووکیٹس ایس ایس احمد، ایم اقبال خان، اپو سنگھ سلاتھیا اور ایم ذوالقرنین چودھری نے کی، نے مفصل دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایم ایل اے کی حراست ’’غیر قانونی اور قانون کی نظر میں ناقابلِ قبول‘‘ ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے حراست کے محرکات کو چیلنج کرتے ہوئے اسے ’’وحشیانہ اقدام، انتظامی اختیارات کا غلط استعمال اور ایک منتخب نمائندے کی اختلافی آواز دبانے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔ ایم ایل اے کی جانب سے دلائل تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہے۔
سرکار کی طرف سے پیش ہونے والے سینیئر وکیل سنیل سیٹھی نے، سینیئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مونیکا کوہلی کے ہمراہ، کیس سے متعلق دو تازہ درخواستیں اور ایک ضمنی حلف نامہ عدالت میں جمع کرایا۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیس کو جزوی سماعت شدہ قرار دیتے ہوئے مزید سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کر دی، جہاں بحث کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا۔ (کے این ٹی)










