امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے اتوار کے روز سرمائی تیاریوں میں مبینہ ناکامی پر متعلقہ افسران کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ممکنہ برف باری کے پیشِ نظر وہ بیوروکریسی کی یقین دہانیوں کے بجائے عوامی فیڈ بیک پر انحصار کریں گے۔
کشمیر نیوز سروس سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے حالیہ برف باری کے بعد انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا، حالانکہ اس سے قبل موسم سرما کی تیاریوں کے حوالے سے واضح ہدایات دی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا،“میں نے سیکریٹریٹ میں ہونے والی میٹنگ میں چیف انجینئر کو واضح طور پر برف باری کے لیے تیاری کے احکامات دیے تھے۔ بڑے بڑے دعوے کیے گئے کہ سب کچھ تیار ہے، مگر ہلکی سی برف باری نے ان کی حقیقت عیاں کر دی۔ ہر طرف سے مدد کے لیے فریادیں آ رہی ہیں۔”
سریندر چودھری نے الزام لگایا کہ بعض افسران ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے بہانے بنا رہے ہیں جبکہ ان کے حکم کے باوجود کنٹرول روم قائم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا،
“میں خاموش رہنے والوں میں سے نہیں ہوں، میں یہاں سے چپ چاپ نہیں جانے والا۔”
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ زمینی سطح پر حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور ارکانِ اسمبلی اور عوام سے براہِ راست فیڈ بیک حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری بریفنگز عوامی مشکلات سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تو وہ ان کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتے، اور وہ خود رپورٹوں کو زمینی حقائق سے جانچتے ہیں۔
انہوں نے محکموں میں پائی جانے والی “بے بسی” کی سوچ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا،“جو انجینئر خود کو بے بس سمجھتا ہے وہ گھر بیٹھ جائے۔ وزیر بے بس نہیں، حکومت بے بس نہیں، ہم جوابدہ ہیں۔”
نائب وزیر اعلیٰ نے فرائض میں کوتاہی برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ بھی دی۔
انہوں نے نمائشی دوروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دورے تصدیق کے لیے ہوتے ہیں، تصویری تشہیر کے لیے نہیں۔






