شام کے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ میں قطر کے میٹرو ریلوے اسٹیشن پر گاڑی کے انتظار میں کھڑا تھا اور اپنے ڈھیرے کی طرف سفر میں تھا۔ بھیڑ کے درمیان میں قطر میں مقیم ایک دوست سے اپنی مادری زبان کشمیری میں فون پر بات کر رہا تھا کہ اچانک پولیس کی وردی میں ملبوس ایک نوجوان نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ میں نے فوراً فون جیب میں رکھ لیا اور دل میں خیال آیا کہ شاید مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے اور پولیس کچھ پوچھنا چاہتی ہے۔
مگر یہ خیال ایک خوبصورت احساس میں بدل گیا۔ وہ جمیل نوجوان اصل میں کشمیری تھا اور قطر پولیس میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس کا نام عادل فیاض تھا اور وہ کلگام کا رہنے والا تھا۔ اس کی گفتگو میں محبت اور احترام جھلک رہا تھا۔ اس کے لہجے نے دل کو چھو لیا۔ چہرے پر مسکراہٹ تھی اور باتوں سے بہترین تربیت صاف ظاہر ہو رہی تھی۔قطر پولیس کی خوبصورت وردی میں اس کشمیری نوجوان کے ساتھ میٹرو بس میں بیٹھ کر بار بار یہ احساس ہوا کہ کشمیریوں کا دل ہر جگہ اپنوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ عادل فیاض کے ساتھ اس مختصر سفر میں بخوبی محسوس ہوا کہ اس کے والدین نے اسے کتنی اچھی تربیت دی ہے۔ پولیس کی وردی کے ساتھ چہرے پر نرمی اور مسکراہٹ قطر پولیس کے عوام کے ساتھ مہذب اور باوقار رویے کی عکاس تھی۔قطر پولیس کا عام انسانوں کے ساتھ حسن سلوک واقعی قابل تقلید ہے۔ ان کا لہجہ اور لوگوں سے پیش آنے کا انداز دل کو سکون دیتا ہے۔ انہیں دیکھ کر انسان ذہنی اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالی انہیں سلامت رکھے۔ اسی رویے میں عادل فیاض کی تربیت اور اس کے ایک اچھے کشمیری ہونے کی واضح تصویر بھی نظر آ رہی تھی۔اس اچانک ملاقات نے میرے دل کے اس یقین کو اور مضبوط کر دیا کہ ہم کشمیری ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اجنبی شہر میں جب ایک کشمیری دوسرے کشمیری سے ملتا ہے تو دل میں جو احساسات جنم لیتے ہیں، ان کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں۔ہم گاڑی کی سیٹ پر بیٹھ کر گلے ملے۔ دل چاہا کہ یہ سفر اور طویل ہو جائے۔ اسٹاپ پر پہنچ کر عادل صاحب نے بڑی محبت سے اصرار کیا کہ شام کا کھانا ساتھ کھائیں گے، مگر چند مجبوریوں کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اترتے وقت اس کے الفاظ تھے، میرے لیے کوئی حکم۔گاڑی آگے بڑھ گئی اور میرے ذہن پر اس نوجوان کے لہجے، تمیز اور ادب کا گہرا اثر تھا۔ میں بار بار یہی سوچتا رہا کہ اچھی تربیت کے حامل لوگ دنیا کے ہر خطے میں بہترین انداز سے پیش آتے ہیں۔ میں نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ کشمیر کا ہر جوان ایک دوسرے کا خیر خواہ بنے، تربیت یافتہ جوانوں سے کشمیر آباد ہو اور اس سرزمین کا بکھرا ہوا شیرازہ پھر سے سنور جائے۔









