ادب ،آداب،لحاظ اور شرمانے میں فرق محسوس کریں ۔۔۔
اگر آپ کو شرم آتی ہے تو اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی ۔کسی خاص کیفیت یا موقع محل پر شرمانا فطری سی بات ہے لیکن اگر آپ کے طرز زندگی میں یہ انداز ہر موقع پر شامل ہو جاتا ہے تو یہ ذرا اچنھبے کی بات ہے ۔ماہرین نفسیات اس فعل کو انسان کے اندر موجود کسی ڈر یا خوداعتمادی میں کمی سے منسوب کرتے ہیں ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر انسان مجموعی طور پر متوازن شخصیت کا مالک نہیں ہوتا وہ اپنے آپ کو کہی لبادوں اور خول میں لپیٹ کر مختلف ردعمل کا مقابلہ نہیں کر پاتا ۔ اچانک رونما ہونے والے کسی انوکھے واقعہ یا صورتحال سے دباؤ محسوس کرتا ہے اور اپنی بات کہتے ہوئے جھجکتا ہے ۔ شرمیلے افراد اکثر معاملات کو اپنے رویہ کی وجہ سے مزید الجھا دیتے ہیں ۔۔۔
سنجیدہ ،سمجھدار،عاقل،اور با شعور افراد اپنے مسائل کو سمجھ کر ان کا حل خود ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ اپنے اندر کی جھجک وشرم کو باہر نکالیں ، خود کو یہ سمجھاہیں جو رویہ آپ نے اختیار کر رکھا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے ۔ اکیلے میں آیینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دوہراییں کہ میں بہت مظبوط اور خود اعتماد ہوں ، مجھ میں کوئی کمی نہیں، یہ نفسیاتی حربہ ہے جو اکثر لوگوں پر کام کر جاتا ہے ۔آس پاس رہنے والے لوگوں سے بات کریں،انہیں یہ احساس دلاییں کہ آپ بات کرنے کے لئے یعنی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ آپ نہ ہی جھجکتے ہیں نہ ہی آپ میں اعتماد کی کمی ہے ۔کسی بھی تقریب میں جانے سے پہلے اپنے ذہن میں ایک لاہیعمل تیار کر لیں کہ وہاں کس طرح لوگوں کی باتوں کا جواب دینا ہے۔
جب بھی کسی مشکل صورتحال کا سامنا ہو پر سکون رہنے کی کوشش کریں ۔ اپنے اوپر یہ احساس حاوی نہ کریں کہ اب کیا ہوگا؟ کیسے ہوگا ؟ خود کو چیلنج کے لئے تیار کریں مگر دل و دماغ میں ہونے والی جنگ کو چہرے سے عیاں نہ ہونے دیں ۔پر سکون رہنے کے لئے گہرے سانس لیں ، عضلات کو ڈھیلا چھوڑ دیں اور چند لمحوں کے لیے کچھ نہ سوچیں ، دباؤ کی کیفیت سے نکلیں ۔ سانس اندر لینے کے ساتھ جو سوچیں اسے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ ہی باہر خارج کر دیں ۔ یاد رکھیں شخصی اعتماد اپ کے اپنے اندر چھپا ہے ، اسے ظاہر کرنے سے شرماییں مت ، دوسرے لوگوں سے اور اپنی کامیابیوں سے سیکھیں ۔ خود ہی نہیں اپنے ساتھ رہنے والوں کو بھی اپنی موجودگی کا یقین دلاییں ۔۔
جھجھکنا ،شرمانا ایک حد تک فطری عمل ہے اسے اپنی زندگی کے لئے مسلہ نہ بنائیں ۔ کوئی آپ پر تنقید کرے اس سے پہلے آپ اپنا دفاع کرلیں ۔۔ ماہرین نفسیات نے شرمانے کے عمل کو خالصتاً اختیاری بھی کہا ہے ان کے خیال میں جب انسان کچھ کر نہیں پاتا تو وہ اس احساس کو خود پر طاری کر لیتا ہے تاکہ اسے نا بلد تصور کرکے ذمہ داریوں سے مبرا اقرار دیا جا سکے ۔ ان تمام مشاہدات اور تنقیدی رویوں سے نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ شرمانا ، جھجھکنا ہر فرد کا رد عمل ہے اور یہ فطری ہے کیونکہ محض تصوراتی ہوتا تو ہر شخص میں یہ جذبہ موجود نہ ہوتا ۔اس سے مکمل نجات حاصل نہیں کی جا سکتی ہے لیکن اپنے اوپر لگی شرمیلے ، شرمیلی کی چھاپ کو ضرور مٹایا جا سکتا ہے ۔۔۔۔









