امت نیوز ڈیسک //
نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ میاں الطاف نے اتوار کے روز مجوزہ بجبہاڑہ–پہلگام ریلوے لائن کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے یقین دلایا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ اور ریلوے وزارت کے سامنے اٹھایا جائے گا۔
وُلرہامہ گاؤں میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے میاں الطاف نے کہا کہ پہلگام تک ریلوے لائن لے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ اس سے نہ سیاحت، نہ یاترا، نہ دفاع اور نہ ہی ریاستی حکومت کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ریلوے لائن سیب کے باغات اور دھان کے کھیتوں کے لیے شدید خطرہ ہے، جو مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
ایم پی نے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو حکومتِ ہند کے ساتھ اٹھائیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مقامی ایم ایل اے الطاف کلو بھی موجود تھے۔
ریلوے حکام کی جانب سے جوئی بل-ویری، دیرہامہ اور وُلرہامہ سمیت کئی دیہات میں سروے کیے جانے کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی موروثی زمینوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
میاں الطاف نے کہا کہ عوام کے خدشات کو اعلیٰ سطح تک پہنچانا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور وہ اس معاملے کو ریلوے وزارت اور پارلیمنٹ میں پوری شدت سے اٹھائیں گے۔
مقامی لوگوں کے مطابق دیرہامہ اور وُلرہامہ کو مجوزہ ریلوے لائن کے ممکنہ اسٹاپ پوائنٹس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے ان علاقوں کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ سروے کے تسلسل کے باعث عوام میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے، حالانکہ اس سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے حمایت کا یقین دلایا ہے۔
واضح رہے کہ بجبہاڑہ–پہلگام منصوبے کے علاوہ اونتی پورہ–شوپیان ریلوے لائن کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس پر بھی مقامی سطح پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں، میاں الطاف نے پہلگام حلقہ انتخاب میں کئی ترقیاتی منصوبوں کے سنگِ بنیاد بھی رکھے۔






