امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 28 جنوری: جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بدھ کے روز سرکاری ملازمین کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو ملازمین سیاست میں ملوث پائے گئے یا منتخب عوامی نمائندوں، خصوصاً ارکانِ اسمبلی (ایم ایل ایز) کو نظرانداز کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز کارنر (کے این سی) کے مطابق میڈیا سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو ملازمین ایم ایل ایز کے ساتھ تال میل قائم نہیں کرتے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایم ایل ایز حکومت کا حصہ ہیں اور آئینی عہدوں پر فائز ہیں۔
انہوں نے کہا،”ہم کبھی بھی کسی ملازم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے خوش نہیں ہوتے، لیکن میں آپ کے ذریعے تمام ملازمین کو ایک واضح پیغام دینا چاہتا ہوں۔ آج عمر عبداللہ اقتدار میں ہیں اور آپ ان کی حکومت کا حصہ ہیں۔ جب معزز ایم ایل ایز آپ سے کسی کام کے لیے کہتے ہیں تو آپ کو سمجھنا چاہیے کہ آپ ایک آئینی دائرہ کار کے تحت کام کر رہے ہیں۔”
نائب وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ بعض ملازمین سیاست میں ملوث ہیں، ایم ایل ایز اور عوام کے ساتھ رابطہ قائم کرنے سے گریز کرتے ہیں اور چند مخصوص افراد کے ساتھ خود کو وابستہ کر لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا،“یہ پیغام ایسے تمام ملازمین کے لیے ہے۔ ہمیں خوشامدی افسران نہیں چاہئیں۔ عمر عبداللہ کو کام چاہیے، خوشامد نہیں۔”
سریندر چودھری نے بتایا کہ اب تک حکومت کی جانب سے جو کارروائیاں کی گئی ہیں وہ “خوشامدی افسران” کے خلاف کی گئی ہیں، جبکہ مخلص اور محنتی افسران کی داخلی سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا، “ہمیں وہ افسران چاہئیں جو زمینی سطح پر کام کر کے نتائج دیں۔”
نائب وزیر اعلیٰ نے حالیہ دنوں میں مختلف محکموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سڑکوں سے برف بروقت ہٹائی گئی، بجلی کی سپلائی بحال کی گئی اور پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے کام جاری ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ابھی کچھ خامیاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا،
“میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سب کچھ سو فیصد درست ہے۔ کچھ کوتاہیاں ہیں، لیکن انتظامیہ متحرک اور جوابدہ ہے۔ حکومت انتخابی وعدوں کے مطابق عوام کی دہلیز تک پہنچنے کے عزم پر قائم ہے۔”
— (کے این سی)





